لیکن عرف میں یہ لفظ صرف باطل کی طرف مائل ہونے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ زہد کے معنیٰ محبوب چیز سے بے رغبتی کے ہیں اور یہ بات بالکل ظاہرہے کہ کوئی شخص اس وقت تک محبوب چیز کو نہیں چھوڑتا جب تک اسے محبوب تر چیزکے حصول کی امید نہ ہو۔
زُہْد کے دَرَجات:
زہد کے درج ذیل درجات ہیں:
(1)…جو شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا ہر چیز سے حتّٰی کہ جنَّتُ الْفِرْدَوْس سے بھی بے رغبتی اختیار کرے، صرفاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرے وہ’’زاہد ِ مطلق‘‘ہے جو کہ زہد کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔
(2)…جو شخص تمام دنیوی لذات سے بے رغبت ہولیکن اُخروی نعمتوں مثلاً:جنتی حوروں،مَحلات وباغات، نہروں اور پھلوں وغیرہ کی لالچ کرے وہ بھی زاہد ہے لیکن اس کا مرتبہ’’زاہدِ مطلق‘‘سے کم ہے۔
(3)…جو شخص دنیوی لذات میں سے بعض کو ترک کرے اور بعض کو نہیں مثلاً مال ودولت کو ترک کرے، مرتبے اور شہرت کو نہیں یا کھانے پینے میں وسعت کو ترک کردے زینت وآرائش کو نہیں اس کو مطلقاً زاہد نہیں کہا جاسکتا۔زاہدین میں ایسے شخص کا وہی مرتبہ ہے جیسے توبہ کرنے والوں میں اس شخص کا جو بعض گناہوں سے توبہ کرے اور بعض سے نہ کرے،جس طرح ایسے تائب کی توبہ صحیح ہے کیونکہ ممنوعہ چیزوں کو ترک کرنے کا نام توبہ ہے یوں ہی ایسے زاہد کا زہد بھی صحیح ہےکیونکہ مباح لذّتوں کا ترک کرنا زہد کہلاتا ہے اورجس طرح یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص بعض ممنوعات کو ترک کرپاتاہو اور بعض کونہیں اسی طرح جائز چیزوں میں بھی یہ ہوسکتاہے۔
لفظ’’زہد‘‘کا استعمال:
جو شخص صرف ممنوع چیزوں کو ترک کرے مباح اشیاء کو نہ چھوڑے اسے زاہد نہیں کہا جائےگا، اگرچہ اس نے ممنوعات سے زہد اختیار کیا ہے لیکن عرف یہ ہے کہ زہد کا لفظ صرف مُباح اشیاء کے ترک کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔