جس میں رغبت کی جائےاور وہ پہلی چیز سے بہتر ہونیز جس چیز سےبے رغبتی کی جائے اس کا بھی کسی نہ کسی اعتبار سے مرغوب ومطلوب ہونا ضروری ہے۔جو شخص ایسی چیز کو ترک کرے جو کسی بھی طرح مطلوب نہ ہو اسے زاہد نہیں کہا جائے گاکیونکہ مٹی،پتھر اور اس قسم کی دیگر بے وَقْعَت اشیاء کو ترک کرنے والا زاہد نہیں کہلاتابلکہ زاہد اس شخص کو کہتے ہیں جو درہم ودینار وغیرہ کو ٹھکرائے جبکہ مٹی اورپتھر وغیرہ تو اس قابل ہی نہیں کہ ان میں رغبت کی جائے۔جس چیز میں رغبت کی جائے اس کے لئے یہ شرط ہےکہ وہ اس شخص کےنزدیک دوسری چیز سے بہتر ہو تاکہ اس چیز کی رغبت دوسری چیز کی رغبت پر غالب ہوجائے۔
کوئی شخص اس وقت تک اپنی چیز کو نہیں بیچتا جب تک اس کے عِوَض ملنے والی شے اسے اپنی چیز سے زیادہ پسند نہ ہو،اس شخص کے حال کو اس کی اپنی چیز جسے یہ بیچ رہا ہے اس کی نسبت سے زہد اور اس کےعوض جو چیز مل رہی ہے اس کی نسبت سے رغبت اور محبت کہا جائے گا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرماتاہے:
وَشَرَوْہُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاہِمَ مَعْدُوۡدَۃٍ ۚ وَکَانُوۡا فِیۡہِ مِنَ الزَّاہِدِیۡنَ ﴿٪۲۰﴾ (پ۱۲،یوسف:۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بھائیوں نے اسے کھوٹے داموں گنتی کے روپوں پر بیچ ڈالا اور انہیں اس میں کچھ رغبت نہ تھی۔
اس آیتِ مُبارَکہ میں حضرت سیِّدُنا یوسفعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بھائیوں کی یہ صِفَت بیان کی گئی کہ وہ آپ سے بے رغبت تھے کیونکہ ان کی یہ خواہش تھی کہ ان کے والد حضرت سیِّدُنا یعقوب عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی محبت صرف انہیں حاصل ہو اور اس خواہش کی تکمیل انہیں حضرت سیِّدُنا یوسف عَلَیْہِ السَّلَامسے زیادہ محبوب تھی، لہٰذا اسے پانے کے لئے انہوں نےآپ کو بیچ دیا۔
لفظ ’’زاہد‘‘ اور’’اِلحاد‘‘ کا استعمال:
ہر وہ شخص جو آخرت کے بدلے دنیا کو بیچتا ہے وہ دنیا سے بے رغبت ہے جبکہ دنیا کے عوض آخرت کو بیچنے والا آخرت سے بے رغبت ہے لیکن عرف یہ ہے کہ زاہد کا لفظ صرف دنیا سےبے رغبت شخص کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جیسے کہ ’’الحاد ‘‘ کا لغوی معنیٰ مائل ہونا ہے چاہے حق کی طرف مائل ہو یا باطل کی طرف