باب نمبر2: زُہْد کا بیان(اس میں پانچ فصلیں ہیں)
کتاب کے اس حصے میں زُہْد کی حقیقت،فضیلت،دَرَجات اوراَقسام نیز کھانے پینے، لباس، مکان، ساز وسامان اور دیگر معاملات میں زُہْد کی تفصیل کے ساتھ ساتھ زُہْد کی علامات کا بیان بھی ہوگا۔
پہلی فصلی: زُہْد کی حقیقت کا بیان
زہد سالکین کے مقامات میں سے ایک اہم مقام ہےاور دیگر مقامات کی طرح یہ بھی علم ،حال اور عمل کے مجموعے سے مُرَتَّب ہوتا ہے۔بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِیْن فرماتے ہیں کہ ایمان کے تمام ابواب کی بنیاد عقیدے،قول اور عمل پر ہے(1)۔
چونکہ قول کے ذریعے باطن کا حال ظاہر ہوتاہے ،اس لئے اسے حال کا قائم مقام کردیا گیاہے ورنہ قول بذاتِ خود مقصود نہیں ہے اور قول اگر حال(یعنی دل کی تصدیق )کے ساتھ صادر نہ ہوتو اسے ایمان نہیں بلکہ ظاہری اسلام کہا جائے گا۔علم حال کا سبب اور حال اس کا پھل ہوتا ہے جبکہ حال کا پھل عمل ہوتاہے ۔ہم حال کو اس کی دونوں طرفوں یعنی علم وعمل کے ساتھ ذکر کریں گےاور حال سے ہماری مراد زُہْد ہے۔
زہد کی تعریف:
اپنی رغبت اور ارادے کو ایک چیز سے ہٹاکر دوسری چیز کی طرف مَبْذول کرنا جو اس پہلی چیز سے بہتر ہوزہد کہلاتا ہے۔ہر وہ شخص جو ایک چیز کو چھوڑ کر کسی مُعاوَضے یا سودے کے سبب دوسری چیز کواختیار کرتا ہے وہ پہلی چیز کو بے رغبتی کے سبب چھوڑتا اور دوسری چیز کو اس میں رغبت اور پسندیدگی کے سبب اختیار کرتا ہے۔جس چیز سے اس نے اعراض کیا اس کی نسبت سے اس کے حال کو زہد جبکہ جس کی طرف یہ مائل ہوا اس کی نسبت سے رغبت ومحبت کہا جاتا ہے۔
زاہد کی تعریف:
زہد کے لئے دو چیزوں کی ضرورت ہے،ایک وہ چیز جس سے بے رغبتی اختیار کی جائے اور دوسری وہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…عقیدے کا تعلق دل سے ،قول کا زبان سے جبکہ عمل کا تعلق اعضاء سے ہوتا ہے۔(اتحاف السادة المتقین،۱۱/ ۶۲۲)