سے قبل ہی اس کے دست آور(یعنی قبض کشا) ہونے کا انکار کرے،نیز جو شخص اس راستے پرچلے اور اسے طے کرنے میں اپنی پوری ہمت صرف کردے لیکن منزل تک نہ پہنچ پائے اور پھر یہ کہنے لگے کہ اس راستے پر چل کر کوئی بھی منزل نہیں پاسکتا اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی دست آور دوا کا استعمال کرے لیکن کسی باطنی خرابی کے سبب وہ دوا اس پر اثر نہ کرے اورپھر وہ اس دوا کے دست آور ہونے کا ہی انکار کردے۔دوسرے شخص کی جہالت اگر چہ پہلے شخص سے کم ہے لیکن بہرحال اسے بھی جَہالت کا وافِرحصہ حاصل ہے۔
صاحِبِ بصیرت کون ہے؟
صاحبِ بصیرت شخص وہ ہے جو ان دو میں سے ایک مرتبے پر فائز ہو:(۱)بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے طریقے پر چلے اور اس پر بھی وہ چیزیں ظاہر ہوں جو ان حضرات پر ظاہر ہوئی تھیں،ایسا شخص صاحِبِ ذوق ومعرفت ہے اور اسے عَیْنُ الْیَقِیْن کا مرتبہ حاصل ہے۔(۲)وہ شخص جوسرے سے اس راستے پرہی نہ چلےیا پھر اس پر چلے اور کسی سبب سے منزل نہ پاسکے لیکن اس راستے اور اس کی منزل پر ایمان رکھے اور اس کی تصدیق کرے،ایسا شخص اگرچہ عین الیقین کا مرتبہ نہ پاسکا لیکن اسے عِلْمُ الْیَقِیْن کی دولت حاصل ہے جو اگرچہ عین الیقین سے کم مرتبہ ہے لیکن بہرحال ایک بلند رتبہ ہے۔
جو شخص علم الیقین اور عین الیقین دونوں سے خالی دامن ہو(یعنی نہ تو اس راستے پر چل کر منزل تک پہنچے اور نہ ہی اس پر ایمان لائے)تووہ مؤمنین کے گروہ سے خارج ہے اور قیامت کے دن اسے متکبر منکرین کے ساتھ اٹھایا جائے گا جو شیطان کی اتباع کرنے والے اور اپنی ناقص عقل کے سبب ہلاک ہونے والے ہیں۔ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعاکرتے ہیں کہ وہ ہمیں پختہ علم والوں میں شامل کردے جو یہ کہتے ہیں:
اٰمَنَّا بِہٖۙ کُلٌّ مِّنْ عِنۡدِ رَبِّنَاۚ وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلْبَابِ ﴿۷﴾ (پ۳،اٰل عمرٰن:۷)
ترجمۂ کنز الایمان:ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے۔
( تُـوْبُـوْااِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُاللہ )
( صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد )