حضرت سیِّدُنا جنید بغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِینے اس شخص سے ترازو منگوایا اور100درہم تولے ،اس کے بعد بغیر تولے ایک مٹھی درہم ان100دِرْہموں کے اوپر ڈال دیئےاورفرمایا:یہ سب درہم حضرت سیِّدُنا ابوالحسن نوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکی خدمت میں پیش کردو۔اس شخص کا بیان ہے کہ میں نے دل میں سوچا: وزن اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ کسی چیز کی مقدار معلوم کی جائے،حضرت سیِّدُناجنیدبغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیعقل مند شخص ہیں پھر انہوں نے100درہم کا وزن کرنے کے بعد بغیر وزن کئے چند درہم کیوں ملا دیئے،لیکن شرم وحیا کے سبب میں ان سے یہ سوال نہ کرسکا اورحضرت سیِّدُنا ابوالحسن نوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔انہوں نے بھی ترازو منگایا،100درہم تول کر الگ کئےاور100سے زائد درہم اپنے پاس رکھ لئے اورفرمایا:یہ سب حضرت سیِّدُنا جنید بغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیکو واپس کردینا اور کہنا کہ میں آپ سے کچھ نہیں لوں گا۔اس شخص کا بیان ہے کہ یہ مُعامَلہ دیکھ کر میری حیرت میں مزید اضافہ ہوگیا اورمیں نےحضرت سیِّدُنا ابوالحسن نوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیسے اس بارے میں عرض کی توانہوں نےفرمایا: حضرت سیِّدُناجنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیایک دانا شخص ہیں،وہ یہ چاہتے تھے کہ رسی کے دونوں سرے پکڑلیں۔انہوں نے 100 درہم اپنے لئے تولےتھے تاکہ انہیں ثوابِ آخرت حاصل ہوجبکہ ایک مٹھی درہم بغیر تولےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ڈالے تھے۔انہوں نے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے دیئے تھے وہ میں نے لے لئے اور جو اپنے لئے ڈالے تھے وہ واپس کردیئے۔وہ شخص100درہم لے کرحضرت سیِّدُنا جنید بغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیکی خدمت میں حاضر ہوا توآپ روپڑے اورفرمایا:جو ان کے لئے تھا وہ انہوں نے لے لیا اور جو ہمارے لئے تھا وہ واپس کردیا۔
پیارے اسلامی بھائیو!ذرا غور کرو،ان نُفُوسِ قُدسیہ کے دل کس قدر صاف ستھرے اوران کے اعمال اخلاص سے کس قدر مُزَیَّن تھے کہ اس کی برکت سے یہ لوگ اپنے اسلامی بھائیوں کی دلی کیفیت کو جان لیا کرتے تھے،اس کے لئےانہیں زبان سےبولنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ یہ سب رزقِ حلال کھانے،دنیا کی محبت سے دل کو پاک کرنے اور ہَمَہ تَناللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف متوجہ ہونے کی برکات ہیں۔
جو شخص اس راستے پر چلنے سے پہلے ہی اس کا انکار کردے ا س کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی دوا کے استعمال