Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
641 - 882
بلند دَرَجات پانے کے لئے مَعْرِفَت کا حُصُول ضروری ہے:
	رضا،صبر،شکر اور سوال کے معاملے میںاَہْلُاللہ کے متعدددَرَجات ہیں،راہِ آخرت کے مسافر کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان درجات ،ان کی مختلف اقسام اور ان کے باہمی فرق کی معرفت حاصل کرے کیونکہ اگر اسے یہ معرفت حاصل نہ ہو تو وہ ابتدائی درجے سے آخری درجے تک کا سفر طے نہیں کرسکتا۔انسان کو اچھی حالت میں پیدا کرنے کے بعد ادنیٰ حالت کی طرف پھیرا گیا اور پھر حکم دیا گیا کہ وہ اَعْلٰی عِلِّیِیْن کی طرف ترقی کرے۔ جو شخص پستی اور بلندی کے درمِیا ن امتیاز کی صلاحیت ہی نہ رکھتا ہو وہ ہرگز ترقی نہیں کرسکتاالبتہ جسے یہ معرفت حاصل ہو اس کا ترقی کرنا ممکن ہے۔
سوال ترقیٔ درجات کا باعث مگر…!
	اللہوالوں پر بعض اوقات ایسی کیفیت طاری ہوتی ہے  جس میں سوال کرنا ان کے درجات میں اضافے کا باعث بنتا ہے  کیونکہ ایسے اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
حکایت:جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے لئے تھا وہ انہوں نے لے لیا 
	ایک شخص کا بیان ہے کہ میں نے  حضرت سیِّدُنا ابوالحسن نوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ    لِیکوایک مَقام پر لوگوں سے سوال  کرتے دیکھا توان کے اس فعل کو بُرا جانااور سیِّدُالطائفہ حضرت سیِّدُناجنیدبغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیکی خدمت میں حاضر ہوکرانہیں اس بات کی خبر دی۔انہوں نے فرمایا:اس بات پر تعجب نہ کرو! حضرت سیِّدُناابوالحسن نوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیلوگوں سے لینے کے لئے نہیں بلکہ انہیں دینے کے لئے سوال کرتے ہیں۔وہ لوگوں سے اس لئے مانگتے ہیں تاکہ اس سوال کو پورا کرنے پر انہیں آخرت میں اجروثواب حاصل ہو۔
	غالباًحضرت سیِّدُناجنیدبغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیکااشارہ اس فرمانِ مصطفٰےکی طرف ہے:يَدُ الْمُعْطِيْ هِيَ الْعُلْيَایعنی دینے والے کا ہاتھ اوپر والا ہاتھ ہے۔(1)بعض علمانے فرمایا:يَدُ الْمُعْطِيْ سے مراد مال دینے والے کا نہیں بلکہ لینے والے کا  ہاتھ ہے کیونکہ وہ مال قبول کرکے دینے والےکے لئے  ثواب اور مرتبہ ملنے کا سبب بنتا  ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن النسائی،کتاب الزکاة،باب ایتھماالیدالعلیاء،ص۴۱۶،حدیث:۲۵۲۹