Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
640 - 882
 پر یقین نہ ہونے سے جنْم لیتے ہیں اور یہ خصلتیں سب سے بڑھ کر ہلاک کرنے والی ہیں۔ ہماللہ عَزَّ  وَجَلَّسے سوال کرتے ہیں کہ وہ اپنےفضل وکرم سے ہمیں اچھے کاموں کی توفیق عطا فرمائے!(اٰمین)
نویں فصل:				مانگنے والوں کے احوال
	حضرت سیِّدُنا بِشر حافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِیفرماتے ہیں:فقرا کی تین قسمیں ہیں:(۱)وہ فقیر جو سوال نہیں کرتا اور اگراسے  دیا جائے تو لیتا نہیں،یہ رُوحانِیِّیْن  فَرشتوں کے ساتھ اَعلیٰ عِلِیِّیْن میں ہوگا۔(۲)وہ فقیر جو کسی سے مانگتا نہیں لیکن اگر کوئی دے تو لے لیتا ہے،یہ جنَّتُ الْفِرْدَوس میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے مُقَرَّب بندوں کے ساتھ ہوگا۔(۳) وہ فقیر جو صرف ضرورت کے وقت سوال کرتا ہے ،یہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن کے نامۂ اعمال ان کے سیدھے ہاتھ میں دیئےجائیں گے۔
	سوال کی مَذمَّت  پر تمام بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِیْنکااِتِّفاق ہے اور اس بات پر بھی سب متفق ہیں کہ سوال اگرچہ ضرورت کے سبب کیا جائے لیکن یہ مقام ومرتبے میں کمی کا باعث ہے۔
حکایت:بلخ کے کتے
	حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اَدْہمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمجب خُراسان سے حضرت سیِّدُنا شقیق بلخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے پاس تشریف لائے تو انہوں نے استفسارفرمایا:آپ نے اپنے فقرادوستوں کو کس حال میں چھوڑا؟ فرمایا:میں نے انہیں اس حا ل میں چھوڑا ہے کہ اگر انہیں بغیر سوال کے دیا جائے تو شکر ادا کرتے ہیں اور اگر نہ دیا جائے تو صبر کرتے ہیں۔حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کا گمان تھا کہ سوال نہ کرنے کا وصف بیان کرکے انہوں نے خراسان کے فقرا کی تعریف کی ہے لیکن یہ سن کرحضرت سیِّدُنا شقیق بلخیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:یہ حال تو بلخ کے کُتّوں کاہے ۔حضرت سیِّدُناابراہیم بن اَدْہمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمنے استفسار فرمایا: اے ابواسحاق!بلخ کے فقراکی کیا کیفیت ہے؟فرمایا:ہمارے فقرا کی حالت یہ ہے کہ اگر انہیں نہ دیا جائے تو شکر کرتے ہیں اور اگر دیا جائے تو ایثار کردیتے ہیں۔یہ سن کرحضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نےحضرت سیِّدُنا شقیق بلخیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے سر کا بوسہ لیا اورفرمایا:اے استادِ محترم !آپ نے سچ فرمایا۔