ایک سوال اور اس کا جواب:
اگر یہ کہا جائے کہ یہ تو گناہِ کبیرہ کی تعریف پہچاننے کے محال ہونے پر دلیل قائم کرنا ہے اور جس شے کی حقیقت جاننا محال ہو شریعت کا حکم اس کے متعلق کیسے وارد ہوسکتا ہے؟
جواب: جان لیجئے کہ ہر وہ معاملہ جس کے متعلق دنیا میں کوئی حکم نہ ہو اس کی طرف اِبہام کا راہ پانا ممکن ہے کیونکہ دارُالْعَمَل تو دنیا ہی ہے اور گناہِ کبیرہ کے لئے بالخصوص اس کے کبیرہ ہونے کے لحاظ سے دنیا میں کوئی حکم نہیں بلکہ حد کو واجب کرنے والے تمام جرم اپنے ناموں سے معروف ہیں مثلاً چوری اور زنا وغیرہ اور چونکہ پانچ نمازوں کا کبیرہ گناہوں کے لئے کفارہ نہ بننے کا حکم آخرت سے تعلُّق رکھتا ہے،لہٰذا اِبہام اس کے زیادہ لائق ہے تاکہ لوگ خوف زدہ رہیں اور پرہیز کریں اور پانچ نمازوں پر تکیہ کرکے صغیرہ گناہوں پر جری نہ ہوجائیں۔ اگر کبیرہ گناہوں سے اجتناب کریں تو صغیرہ گناہ خود ہی مٹا دئیے جائیں گے۔ جیساکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنۡ تَجْتَنِبُوۡا کَبَآئِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنۡکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ (پ۵،النسآء:۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے تو تمہارے اور گناہ ہم بخش دیں گے۔
کبیرہ سے اجتناب صغیرہ کو کب مٹاتاہے؟
یادرہے کہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب صغیرہ گناہوں کو اس وقت مٹاتا ہے جب انسان قدرت اور ارادے کے باوجود بچے مثلاً کوئی شخص کسی عورت سے بدکاری کرنے پر قدرت رکھنے کے باوجود خود کو بدکاری سے بچائے اور فقط دیکھنے یا چھونے پر اکتفا کرے تو اس کا بدکاری سے رک کر نفس سے جہاد کرنا (یعنی نفس کو قابو میں رکھنا) دل کو روشن کرنے میں زیادہ تاثیر رکھتا ہے اور اس کے مقابلے میں دل کو تاریک وبےنور کرنے میں عورت کو دیکھنا کم مُؤ َثّر ہے اور صغیرہ گناہ کو مٹادینے کا یہی معنیٰ ہے۔ اگر کوئی شخص نامرد ہو کہ جماع پر قادر نہیں یا کسی ضرورت کے تحت بدکاری سے عاجز ہو یا قادر تو ہو مگر کسی دوسری بات کے خوف کے سبب باز رہے تو اس اعتبار سے کبیرہ گناہ سے بچنا صغیرہ کو مٹانے کی صلاحیت بالکل نہیں رکھتا مثلاً کوئی شخص طبعی طور پر شراب کی خواہش نہ رکھتا ہو حتّٰی کہ اگر اس کے لئے مباح بھی ہو تب بھی نہیں پیتا تو اس کا شراب خوری کے