Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
639 - 882
 زندہ رہنے کی امید بعید نہیں ہے اورسوال کو مؤخر کرنے میں اسے اس بات کا خوف ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ محتاج اور بے یارومددگار رہ جائے گا۔
	اگر مستقبل میں سوال کرنے سے عاجز ہونے کا خوف کمزور ہو اور جس چیز کا سوال کرنا ہے وہ ضروریاتِ زندگی میں شامل نہ ہو تو پھر سوال کرنا مکروہ ہےاور یہ کراہت سوال کے موقع کے فوت ہونے کے خوف اور سوال کی حاجت کے وقت کے اعتبار سے کم یا زیادہ ہوگی۔اس بات کی تفصیل کومکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں بلکہ راہِ آخرت کے مسافر کو چاہئے کہ اس معاملے میں اپنی دلی  کیفیت پر غور کرکے اس کے مطابق عمل کرے۔ 
	جس شخص کااللہ عَزَّ  وَجَلَّپر یقین مضبوط  ہو،اسے اس بات پر بھروسا ہو کہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے جب آج کے لئے میرا اور اہل وعیال کا رزق عطا فرمایا ہے تو کل بھی عطا فرمائے گا اور وہ ایک وقت کی روزی پر قناعت کرےتو بارگاہِ الٰہی میں اسے بلند مرتبہ حاصل ہوتا ہے اور اسے مستقبل کا خوف پریشان نہیں کرتا،یہ خدشہ صرف ان لوگوں کو دامن گیر ہوتا ہے جن کا یقین کمزور ہواور وہ شیطانی وَساوِس کی طرف متوجہ ہوتے ہوں۔ ارشادباری تعالیٰ ہے:
فَلَا تَخَافُوۡہُمْ وَخَافُوۡنِ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ ﴿۱۷۵﴾ (پ۴،اٰل عمرٰن:۱۷۵)
ترجمۂ کنز الایمان:تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔
	ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے: اَلشَّیۡطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَاۡمُرُکُمۡ بِالْفَحْشَآءِۚ وَاللہُ یَعِدُکُمۡ مَّغْفِرَۃً مِّنْہُ وَفَضْلًاؕ (پ۲،البقرة:۲۶۸)
ترجمۂ کنز الایمان:شیطان تمہیں اندیشہ دلاتا ہے محتاجی کا اور حکم دیتا ہے بے حیائی کا اور اللہتم سے وعدہ فرماتا ہے بخشش اور فضل کا۔ 
	سوال کرناسخت بُرے کاموں میں سے ہے جسے صرف ضرورت کے وقت مباح کیا گیا ہے ،جو شخص ایسی حاجت کے لئے سوال کرے جو اسے آج نہ ہو بلکہ آئندہ ایک سال میں درپیش ہونے والی ہو اس کا حال اس شخص سے بھی بُرا ہے جسے میراث میں مال ملے اور وہ اسے ایک سال کے بعد کی ضرورت کے لئے جمع کرلے۔اگر چہ فتوٰی یہی ہے کہ یہ دونوں فعل جائز ہیں لیکن یہ دنیا کی محبت،لمبی امیداور اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے فضل