مکان کی کم سے کم مقدار یہ ہے کہ وہ رہنے کے لئے کافی ہو،اس میں زینت وآرائش کا کوئی عمل دخل نہیں بلکہ زینت کے لئے سوال کرنا ضرورت سے زائد اور ناجائز ہے۔
اوقات کے اعتبار سےانسانی ضروریات:
ایک دن اور رات کے کھانے نیز پہننے کے لباس اور رہنے کی جگہ کے لئے فی الحال جس چیز کی ضرورت ہو اس کا سوال کرنا بلاشُبَہ جائز ہے جبکہ مستقبل کے لئے سوال کرنے میں تین صورتیں ہیں:(۱)جس چیز کی کل ضرورت ہوگی۔(۲)آئندہ40،50دنوں میں جس چیز کی ضرورت ہوگی۔(۳)وہ چیز جس کی ضرورت آئندہ ایک سال میں ہوگی۔
یہ بات توبالکل واضح ہے کہ جس شخص کے پاس اتنا مال ہو جو اس کی اور اس کے اہل خانہ کی ایک سال کی ضروریات کے لئے کافی ہو تو ایسے شخص کےلئے سوال کرنا حرام ہے کیونکہ یہ انتہائی دَرَجے کا غَنا ہے۔ ماقبل مذکور حدیثِ پاک کو اسی صورت پر محمول کرنا چاہئے کیونکہ اگر کفایَت شعاری سے خرچ کیا جائے تو 50درہم یعنی پانچ دینار اکیلے شخص کےپورے سال کے اخراجات کے لئے کافی ہیں۔
عیال دار شخص کی دو صورتیں اور ان کا حکم:
ممکن ہے کہ عیال دار شخص کے لئے50درہم سال بھرکے لئے کافی نہ ہوں،ایسا شخص دو حال سے خالی نہیں ہوسکتا:
(1)…ضرورت پڑنے پر وہ سوال کرنے پر قادر ہوگا اور اُس وقت سوال کرنا ممکن ہوگا،ایسی صورت میں فی الحال یعنی ضرورت سے پہلے سوال کرنا جائز نہیں کیونکہ فی الوقت وہ سوال سے بے نیاز ہے،اس کے پاس ایک دن رات کا کھانا موجود ہے اور اسے نہیں معلوم کہ یہ کل تک زندہ رہے گا یا نہیں۔جس حدیثِ پاک میں ایک دن رات کا کھانا ہوتے ہوئے سوال کی ممانعت کی گئی اسے اسی صورت پر محمول کرنا چاہئے۔
(2)…اگر اس نے مستقبل کی ضرورت کےلئے فی الحال سوال نہ کیااور ضرورت کےوقت یہ سوال پر قادر نہ ہوگا اور نہ ہی کوئی دینے والا ملے گاتو پھر فی الوقت سوال کرنے کی بھی اجازت ہے کیونکہ ایک سال تک