Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
637 - 882
انسان کی بنیادی ضروریات تین ہیں:
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے پیارے حبیب،حبیْبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: لَاحَقَّ لِابْنِ اٰدَمَ  اِلَّا فِیْ ثَلَاثٍ طَعَامٌ يُّقِيْمُ صُلْبَهٗ وَثَوْبٌ يُّوَارِیْ عَوْرَتَهٗ  وَبَيْتٌ يَّـكُنُّهٗ فَمَا زَادَ فُهَوَ حِسَابٌیعنی ابن آدم کا حق صرف تین چیزوں میں ہے:(۱)اتنا کھانا جو اس کی پیٹھ سیدھی رکھے(۲)اتنا لباس جواس کی سَتْر پوشی کرے(۳)ایک گھر جو اس کو سردی گرمی سے محفوظ رکھےاور جواس سےزائدہے اس کا حساب ہوگا۔ (1)
	انسان کی بنیادی ضروریات کے معاملے میں ان تین چیزوں کو بنیاد بناکران جیسی ضروری اشیاء کو ان سے ملادینا چاہئے مثلاً:جو چلنے پر قادر نہ ہو اس کے لئے سُواری کا کرایہ اور ایسی ہی دیگر ضروری اشیاء۔نیز اہل وعیال، زیرِ کفالت افراداور جانور وں کی ضروریا ت کا بھی وہی حکم ہوگا جو اس شخص کی اپنی ضروریات کا ہے۔
مقدار کے اعتبار سےانسانی ضروریات:
	جہاں تک مقدار کا سوال ہے تو کپڑے میں اس مقدار کا اعتبار کیا جائےگا جو دین دار بامُرَوَّت لوگ پہنتے ہیں یعنی شلوار قمیص،سر کا رومال اور جوتے،یہ سب ایک ایک کافی ہیں۔گھر کے سامان کو بھی اس پر قیاس کیا جاسکتا ہے ۔
	سادہ لباس کی موجودگی میں عمدہ لباس کا جبکہ مٹی کے برتن ہوتے ہوئے تانبے اور پیتل کے برتنوں کا سوال کرنا جائز نہیں  کیونکہ یہ چیزیں ایسی ہیں جن کے بغیر بھی گزارہ ہوسکتا ہے،گویا کہ ہر چیز میں ایک عدد اورادنیٰ نوع پر اکتفا کیا جائے گا جبکہ وہ اتنی گھٹیا نہ ہو جو عادت سے خارج ہو۔
	خوراک کے بارے میں شریعت نے یہ بیان فرمایا ہے کہ انسان کے لئےایک دن میں ایک مُد کافی ہے۔ خوراک اس طرح کی ہونی چاہئے جو اس شہر میں کھائی جاتی ہے چاہے جو کی روٹی ہی کیوں نہ ہو۔سالن کو ہمیشہ کھانا ضروریا ت میں شامل نہیں جبکہ اسے بالکل چھوڑدینا بھی نقصان دہ ہےاس لئے کبھی کبھار سالن کا سوال کرنے کی اجازت ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… سنن الترمذی،کتاب الزھد،باب  ماجاء فی الزھادة فی الدنیا،۴/ ۱۵۲،حدیث : ۲۳۴۸،بتغیر