آٹھویں فصل: کس قدر مال کی موجودگی میں سوال کرنا حرام ہے؟
جان لو کہ یہ فرمانِ مصطفٰے:مَنْ سَاَلَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى فَاِنَّمَا يَسْاَلُ جَمْرًا فَلْيَسْتَـقِلَّ مِنْهُ اَوْ لِيَسْتَكْثِرْیعنی جو شخص حاجت مند نہ ہونے کے باوجود سوال کرے تو وہ انگاروں کا سوال کرتا ہے،اب چاہے کم مانگے یا زیادہ۔(1)سوال کی حرمت کے بارے میں بالکل واضح ہے لیکن غَنا کی تعریف اور اس کی مقدار معین کرنا مشکل ہے ۔یہ مقدار ہم اپنی طرف سے معین نہیں کرسکتے بلکہ یہ توقیفی یعنی شریعت کی طرف سے مقرر کردہ ہے ۔
حضورسیِّدِعالَم،نُـوْرِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:اِسْتَـغْـنَوْا بِغِنَى اللہ تَعَالٰى عَنْ غَيْرِهٖیعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّکی غَنا کے ذریعے مخلوق سے بے نیاز ہوجاؤ۔(2)عرض کی گئی:اللہ عَزَّ وَجَلَّکی غَنا کیا ہے؟ارشاد فرمایا: غَدَآءُ يَوْمٍ وَّعَشَآءُ لَيْلَةٍ یعن ایک دن اور ایک رات کا کھانا۔
ایک روایت میں ہے:مَنْ سَاَلَ وَلَـهٗ خَمْسُوْنَ دِرْهَمًا اَوْ عَدْلُهَـا مِنَ الذَّهَبِ فَقَدْ سَاَلَ اِلْحَـافًا یعنی جو شخص لوگوں سے سوال کرے حالانکہ اس کے پاس50درہم یا اس کے برابر سونا موجود ہو تو وہ ضد کرکے مانگنے والا ہے۔(3)
ایک روایت میں 50کے بجائے40 درہم کا ذکر ہے۔(4)
جب کسی معاملے میں چندصحیح روایات میں مختلف مقداریں بیان کی گئی ہوں تو پھر لازم ہوتا ہے کہ انہیں مختلف احوال پر محمول کیا جائے تاکہ روایات میں تضاد لازم نہ آئے کیونکہ درحقیقت حق ایک ہی ہے اور مقدارکا تعین ممکن نہیں ،اس صورت میں زیادہ سے زیادہ یہی ہوسکتا ہے کہ کوئی قریبی مقدار بیان کردی جائے اورایساصرف اسی وقت ہوسکتا ہے کہ ایسی تقسیم کی جائے جو محتاجوں کے احوال کا اِحاطہ کرلے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم، کتاب الزکوة، باب کراھةالمسئلة للناس، ص ۵۱۸،حدیث:۱۰۴۱ ،بتغیرقلیل
2…الکامل فی ضعفاء الرجال،ابوداؤدسلیمان بن عمروالنخعی،الرقم۷۳۳، ۴/ ۲۲۳
3…قوت القلوب،الفصل الحادی والاربعون،فی ذکرفضائل الفقر…الخ،۲/ ۳۲۵
4…سنن ابی داود ، کتاب الزکوة، باب من یعطی من الصدقة وحد الغنی،۲/ ۱۶۳،حدیث :۱۶۲۸،۱۶۲۷