پھر اسے وہی چیز نظر آتی ہے جو اس کی خواہشات کے موافق ہو اور وہ دینے والے کی ناپسندیدگی کو ظاہر کرنے والے قرائن کی طرف متوجہ نہیں ہوپاتا ۔یہ وہ باریک نِکات ہیں جن سے اس فرمانِ مصطفٰے کی حکمت سمجھ آسکتی ہے۔چنانچہ
سب سے پاکیزہ کھانا:
حضور نبیّ پاک،صاحِبِ لَولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:اِنَّ اَطْيَبَ مَا اَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهٖیعنی سب سے پاکیزہ کھانا وہ ہے جو آدمی کی اپنی کمائی سے ہو۔(1)
پیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواللہعَزَّ وَجَلَّنے جَوَامِعُ الْکَلِمْ عطافرمائے تھے یعنی آپ مختصر الفاظ میں کثیر مضامین کو بیان فرمادیا کرتے تھے۔مذکورہ حدیْثِ پاک بھی جَوَامِعُ الْکَلِمْ میں سے ہےکیونکہ جو شخص نہ تو خود کما تا ہو اور نہ ہی اسے اپنے باپ یا کسی قریبی عزیز کی وراثت میں مال ملا ہو وہ لامُحالہ لوگوں سے لے کر کھائے گا۔اگر اسے بغیر سوال کے دیا بھی جائے تو یہ دینا اس کی دین داری کی وجہ سے ہوتا ہے،اس صورت میں اگر اس شخص کی باطنی حالت ایسی ہوجو دینے والوں کو معلوم ہو جائے تو وہ اسے ہرگز نہ دیں تو پھر یہ شخص اپنی دین داری کے عوض جو کچھ لیتا ہے وہ اس کے لئے حرام ہے۔اگر ایسا شخص سوال کرکے اپنی ضروریا ت پوری کرے تو بھلا آج کے دور میں ایسے لوگ کہاں ہیں جن سے کچھ مانگا جائے تو وہ دلی رضامندی سے دیں اور ایسے سائل کہاں پائے جاتے ہیں جو صرف بقدرِ ضرورت سوال کریں۔اگر تم لوگوں سے مانگ کر کھانے والوں کے حالات کی تفتیش کرو تو تم پر یہ بات منکشف ہوجائے گی کہ وہ جو کچھ کھاتے ہیں وہ سارے کا سارا یا پھر اس کا اکثر حصہ ناجائز وحرام ہے،پاکیزہ روزی وہی ہے جو آدمی خود کمائے یا پھر باپ دادا نے کماکر اس کے لئے بطورِ وراثت چھوڑی ہو،لوگوں سے لےکر کھانے والے شخص کو تقوٰی حاصل ہونا بہت مشکل ہے۔
ہماللہعَزَّ وَجَلَّسے سوال کرتے ہیں کہ مخلوق سے ہماری امیدوں کو منقطع فرمادے،مالِ حلال عطا فرماکر ہمیں حرام سے بے نیاز فرمادے اور اپنے فضل وکرم سے ہمیں لوگوں سے مستغنی کردے،بے شک وہ جو چاہےکرسکتا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… سنن نسائی ، کتاب البیوع، باب الحث علی الکسب،۷۲۲،حدیث: ۴۴۵۸