(1)…ضرورت کے وقت:جیسا کہ حضرت سیِّدُناسلیمان،حضرت سیِّدُناموسٰی اورحضرت سیِّدُناخضرعَلَیْہِمُ السَّلَام نے بوقتِ ضرورت سوال فرمایااور یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ ان حضرات نے انہی سے سوال فرمایا جن کے بارے میں یہ جانتے تھے کہ وہ خوش دلی سے دیں گے۔
(2)…دوستوں اور اسلامی بھائیوں سے سوال:اَہْلُاللہاپنے دوستوں اور اسلامی بھائیوں کا مال ان سے مانگے اور اجازت لیے بغیر استعمال کرلیا کرتے تھےاور وہ جانتے تھے کہ دوسرے کی چیز لینے کا دارومدار اس کے دل کی رِضامندی پر ہے نہ کہ زبان سے اجازت دینے پر اور ان حضرات کو اپنے اسلامی بھائیوں کے بارے میں اعتماد تھا کہ ہمارے لینے سے وہ خوش ہوں گے۔یہ حضرات صرف اس صورت میں سوال کرتے جب انہیں شک ہوتا تھا کہ جو چیز ہم لینے والے ہیں وہ ہمارے دوست کی ملکیت ہے یا نہیں ورنہ انہیں سوال کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔
سوال اس وقت جائز ہوتا ہےجب سائل کو معلوم ہو کہ میں جس سے مانگ رہا ہوں اگر اسے میری ضرورت کا علم ہوجائے تو وہ بغیر مانگے اسے پورا کردے گا اور سوال سے مقصود صرف اسے اپنی ضرورت سے آگاہ کرنا ہو نہ کہ شرم وعار دلا نااور حیلے بہانے سے دینے پر ابھارنا ۔
دینے والے کی تین حالتیں اور ان کا حکم:
سائل کو اگرقرائن اور احوال کے ذریعے یہ معلوم ہو کہ دینے والاخوش دلی سے دے رہا ہے تو لینا بالکل جائز ہے اوراگر قرائن سے یہ بات ظاہر ہو کہ وہ ناپسندیدگی کے ساتھ دے رہا ہے تو لینا ناجائز وحرام ہے اور اگران دونوں میں سے کسی بات کا یقین نہ ہو تو پھر انسان کو اپنے دل پر غور کرنا چاہئے اور شبہات کو ترک کرکے غیر مشتبہ چیزوں کو اختیار کرنا چاہئے کیونکہ شُبہات انسان کو گناہ تک لے جاتے ہیں۔
سائل کو تقوٰی حاصل ہونا بہت مشکل ہے:
آثار وقرائن کے ذریعے دینے والے کی دلی رضامندی یا ناپسندیدگی کا علم حاصل کرنا اس شخص کےلئے آسان ہوتا ہے جس کی عقل پختہ اور حرص ولالچ کمزور ہو اور اگر حرص ولالچ مضبوط اور عقل کمزور ہو تو