Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
633 - 882
 ہوتا۔اس معاملے  میں نجات کی کیا صورت ہے؟
	جواب:اسی باطنی معاملہ کی وجہ سے متقین نے سوال کو بالکل ترک کردیا تھا اور وہ کسی سے کوئی بھی چیز نہیں لیتے تھے۔حضرت سیِّدُنابِشْرحافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِیصرف حضرت سیِّدُناسَری سَقَطِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے لیا کرتے تھے۔جب وجہ پوچھی گئی تو فرمایا:میں جانتا ہوں کہ حضرت سیِّدُناسَری سَقَطِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی  اپنے پاس موجود مال کو خرچ کر کے خوش ہوتے ہیں اس لئے میں ان کے پسندیدہ کام میں ان کی مدد کرتا ہوں۔
	شریعَتِ مطہرہ میں سوال کرنے کی شدید ممانَعت اور اس سے بچنے کی سخت تاکید کی وجہ یہ ہے کہ جس سے سوال کیا جائے اسے اس سے ایذا پہنچتی ہے اور کسی کو تکلیف دینا صرف بوقْتِ ضرورت جائز ہے۔مثلاً: کوئی بھوک سے مرنے والا ہے،سوال کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں اور نہ ہی کوئی ایسا شخص ہے جو اسے خوش دلی سے دے تو ایسی صورت میں سوال کرنے کی اجازت ہے جیسا کہ مخصوص صورت میں مردار کھانے کی رخصت ہے،بہر حال سوال نہ کرنا متقین کا طریقہ ہے۔ 
	بعض اَہْلُاللہرَحِمَہُمُ اللہ تعالٰی  جنہیں اپنی قلبی بصیرت پر اعتماد تھا اور وہ اپنی مومنانہ فِراست سے جان لیا کرتے تھے کہ دینے والا خوش دلی سے دے رہا ہے یا نہیں، وہ بعض لوگوں سے لیتے تھے اور بعض سے نہیں جبکہ بعض حضرات صرف اپنے دوستوں سے لیا کرتے تھے۔کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو دی جانے والی چیزوں میں سے کچھ کو رکھ لیتے تھے اور کچھ واپس کردیتے تھے جیسا کہ حضورنبیّ رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مینڈھا واپس فرمادیا اور گھی وپنیر کو قبول فرمایا۔(1)ان حضرات کا یہ عمل ان چیزوں میں تھا جو انہیں بغیر سوال کے حاصل ہوتی تھیں کیونکہ مانگے بغیر کسی کا کچھ دینا اس بات کی دلیل ہے کہ دینے والا خوشی سے دے رہا ہے البتہ اس میں یہ امکان ہوتا ہے کہ دینے والا حُبِّ جاہ یا پھر  لوگوں کو دکھانے اور سنانے کے لئے دے رہا ہو ،یہ نُفُوسِ قُدْسِیَہ ایسے لوگوں کے تحفے قبول نہیں فرماتے تھے۔
اللہوالے صرف دو مواقع پر سوال کرتے تھے:
	اللہوالے  سوال کرنے سے مطلقاً بچتے تھے البتہ دو مواقع پر سوال کرتے تھے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… مسند احمد بن حنبل، مسند الشامیین، حدیث یعلی بن مرہ  ثقفی،۶/ ۱۷۵،حدیث :۱۷۵۵۹،بتغرقلیل