ہوتاہے،جیسا کہ مروی ہے:اِنَّمَا اَحْكُمُ بِالظَّاهِرِ وَاللہ يَتَوَلَّى السَّرَآئِرَ یعنی میں صرف ظاہر کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں جبکہ باطن کا معاملہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سپرد ہے۔(1)
جواب:اختلافی معاملات میں فیصلہ کرنے کے لئے قاضی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ ظاہر کے مطابق فیصلہ کرے کیونکہ انہیں باطنی معاملات اور قَرائِن کا علم نہیں ہوتااس لئے وہ لوگوں کی زبان پراعتبار کرتے ہوئے گواہی کے مطابق فیصلہ کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔اگرچہ زبان کئی دَفْعَہ حقیقت کی ترجُمان نہیں ہوتی لیکن ضرورت کے باعث اس پر اعتبارکیا جاتا ہےجبکہ سوال کا معاملہ بندے اوراللہعَزَّ وَجَلَّکے درمیان ہےاوراس کا فیصلہ اَحْکَمُ الْحَاکِـمِیْن جَلَّ جَلَالُہٗفرماتاہے۔اللہعَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں دل اس طرح گواہی دیتے ہیں جس طرح دنیوی بادشاہوں کے سامنے زبانیں، اس لئے اس معاملے میں صرف اپنے دل کی طرف رجوع کرنا چاہئے اگرچہ فتوٰی دینے والے فتوٰی دیں۔مفتی کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ قاضی اور بادشاہ کو شریعَتِ مطہرہ کے ظاہری احکام بتائے تاکہ وہ دنیا میں ان کے مطابق فیصلے کریں جبکہ علمائے آخرت دلوں کے مفتی ہیں اور جس طرح فقیہہ کے فتوے پر عمل کرنے سے دنیوی بادشاہ کی سزا سے چھٹکارہ ملتا ہے اسی طرح علمائے آخرت کے فتوے پر عمل کی بدولت عذابِ الٰہی سے نجات حاصل ہوتی ہے۔
بہرحال دینے والی کی ناپسندیدگی کے باوجود سائل نے جومال لیا،عنداللہ وہ اس کا مالک نہیں ہوااور اس پر لازم ہے کہ اسے اس کے مالک کو واپس کردے۔ اگر وہ شخص شرم کی وجہ سے واپس نہ لے تو پھراسے اتنی مالیت کا تحفہ وغیرہ دے تاکہ اِس کی ذمہ داری پوری ہوجائے۔اگر وہ شخص تحفہ بھی قبو ل نہ کرےتو اس کے مرنے کے بعد اس کے وُرَثاء کو دے۔اگر اس نے وہ چیز واپس نہ کی اور اس کے پاس ہلاک ہوگئی تو دیانتاً اس پر تاوان لازم ہےنیز ایذا دینے والے سوال اور اس کے ذریعے حاصل کردہ چیز کو استعمال کرنے کی وجہ سے وہ گناہ گار ہے۔
کیسے پتا چلے کہ دینے ولا خوشی سے دے رہا ہے یا نہیں؟
سوال:دینے والا خوشی سے دے رہا ہے یا نہیں یہ ایک باطِنی معاملہ ہے جس کا علم حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔بعض اوقات سائل یہ گمان کرتا ہے کہ دینے والا خوشی سے دے رہا ہے حالانکہ وہ خوش نہیں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المجموع شرح مھذب، باب اختلاف المتبایعین،۱۳/ ۶۹