کو دینے والا کا احسان مند ہونا پڑے ۔
(3)…دینے والے کی ایذاسے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ کسی معین شخص سے نہ مانگےبلکہ اس اندازسے سوال کرےکہ جو شخص اسے دینا چاہتا ہو صرف وہی دے۔اگر اس مجلس میں کوئی ایسا شخص موجود ہو جس کی طرف سخاوت کے لئےرجوع کیا جاتا ہے اور اگر وہ اس غیر معین طور پر مانگنے والے کو نہ دے تو اسےملامت کی جائے گی تو پھر غیر معین طور پر سوال کرنا بھی اس کے لئے ایذا کا باعث ہوگا کیونکہ اس قسم کا شخص بعض اوقات لوگوں کی ملامت کے خوف سےخرچ کرتا ہے حالانکہ اس کی دِلی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اگرلوگوں کی ملامت سے بچتے ہوئےنہ دینا ممکن ہو تو میں نہ دوں۔
اگر کسی معین شخص سے سوال کرنا پڑے تو بھی مناسب یہ ہے کہ صراحتاً اس کا نام نہ لے بلکہ اس طرح بند لفظوں میں سوال کرے کہ اگر وہ شخص اس کے سوال سےبے توجہی کرنا چاہے تو کرسکے،پھر اگر وہ بے توجہی ممکن ہونے کے باوجود اسے دیتا ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ دلی رغبت سے دے رہا ہے اور اِس کا سوال اُس کے لئے اَذِیَّت کا باعث نہیں ہے۔بہتر یہ ہے کہ کسی ایسے شخص سے سوال کرے جسے نہ دینے میں یا بے توجہی کرنے میں سائل سے شرم نہ آتی ہوکیونکہ جس طرح سائل کے علاوہ کسی کا دیکھنا ایذا کا سبب ہےیونہی سائل سے شرمندگی بھی باعِثِ ایذاہے۔
باطنی مار ظاہری ضرب سے شدید ہوتی ہے:
سوال:اگر سائل کو معلوم ہو کہ دینے والا اس سے یا دیگر لوگوں سےشر م و حیا کی وجہ سے دے رہا ہے اور اگر یہ بات نہ ہوتی تو وہ ہرگز نہ دیتا تو اس صورت میں لینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:اس میں علما کا کوئی اختلاف نہیں کہ مذکورہ صورت میں لینا حرام ہے اور اس صورت کاحکم وہی ہے جو مار پیٹ کریا بطورِ جرمانہ کسی کا مال لینے کا ہے کیونکہ کسی شخص کے ظاہری جسم پر لکڑی کی مانند سخت کوڑا مارنے اور اس کے باطن پر شرم وحیا اور خوفِ ملامت کا کوڑا برسانے میں کوئی فرق نہیں بلکہ عَقْل مندوں کے نزدیک باطنی مار زیادہ سخت ہوتی ہے۔
سوال:شرم وحیا کی وجہ سے دینے والا بظاہر اپنی مرضی سے دیتا ہے اور شرعی احکام میں ظاہر کا اعتبار