کرے تاکہ گھر سے نکلتے وقت اسے لباس کے اوپرپہن کر اپنے لباس کی حالت کو لوگوں سے چھپاسکے،یا جس کے پاس روٹی موجود ہے اس کا سالن مانگنا،نیز گدھے کے کرائے پر قادر شخص کا گھوڑے کے کرائے کے لئے یاباربرداری والے اونٹ پر قدرت رکھنے والے کاسواری کے لئے مخصوص اونٹ کے کرائےکا سوال کرنا۔ مذکورہ صورتوں میں اگر سائل اپنی اَصْل حاجت کے علاوہ کوئی اور ضرورت ظاہر کرکے سامنے والے کو دھوکا دے تو اس کا سوال کرنا حرام ہے اوراگر ایسا نہ کرے لیکن ماقبل مذکور سوال کی تین آفات یعنیاللہعَزَّ وَجَلَّ کاشکوہ،غیراللہ کے سامنے ذِلَّت اور جس سے مانگ رہا ہے اسے ایذا دینے میں سے کوئی آفت پائی جائے تو بھی سوال حرام ہے کیونکہ اس قسم کی ضروریات کے لئے ممنوعہ چیزوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور اگر اس کا سوال مذکورہ تمام مَفاسِد سے خالی ہو تو پھر اس قسم کا سوال کراہت کے ساتھ جائز ہے۔
سوال میں پائی جانے والی تین آفات سے بچنے کا طریقہ:
سوال:کیا مذکورہ تینوں آفات سے بچتے ہوئے سوال کرنا ممکن ہے؟جواب:جی ہاں!درج ذیل طریقے پر عمل کرکے مذکورہ آفات سے بچنا ممکن ہے:
(1)…اللہعَزَّ وَجَلَّکی شکایت سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنی زبان سےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کےشکر اور مخلوق سے بے نیازی کااظہار کرےاور محتاج لوگوں کے انداز میں سوال نہ کرے بلکہ یوں کہے:جو کچھ میرے پاس موجود ہے اس کی وجہ سے میں سوال سے بے نیاز ہوں لیکن میرا نفس ایک اور کپڑے کا مُطالَبہ کررہا ہے تاکہ اسے لباس کے اوپر پہنوں اگرچہ یہ حاجت سے زیادہ اور فضولیات میں سے ہے۔اس انداز میں کیا جانے والا سوالاللہ عَزَّ وَجَلَّکی شکایت سے خالی ہوگا۔
(2)…مخلوق کے سامنے ذِلَّت سے یوں حفاظت ہوسکتی ہے کہ اپنے والد،قریبی رشتے دار یا ایسے دوست سے سوال کرےجس کے بارے میں اسے معلوم ہو کہ سوال کرنے کے سبب نہ تو اُس کے نزدیک اِس کی عزت میں کمی آئے گی اور نہ ہی وہ اسے حقیر جانے گا،یا پھر کسی ایسے سخی سے سوال کرےجو اپنا مال اس جیسے لوگوں پر خرچ کرتا ہو ،انہیں ما ل دے کر خوش ہوتا ہواوراپنا مال قبول کرنے پر ان کا احسان مند ہوتا ہو۔ اس قسم کے مال دار سے سوال کرنے میں ذِلَّت نہیں ہوگی ، ذلت اس صورت میں ہوتی ہے جب لینے والے