Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
63 - 882
 رکھتا ہو مگر جسے یہ گمان ہو کہ وہ تنہا گواہی دے سکتا ہے یا اس کا خیال ہو کہ گواہی دے کر کسی کی مدد کرے گا تو اس کے حق میں اسے کبیرہ گناہوں سے شمار نہیں کرنا چاہئے۔
جادو کے کبیرہ ہونے کے متعلق بحث:
	جہاں تک جادو کا معاملہ ہے تو اگر اس میں کسی قسم کا کفر ہو تو یہ گناہِ کبیرہ ہے ورنہ اس کاکبیرہ  ہونا اس سے پیدا ہونے والے نقصان وضرر کے اعتبار سے ہوتا ہے جیسے جادو سے کسی کی جان چلی جانا یا بیمار ہوجانا وغیرہ۔
جہادسے فرار اور والدین کی نافرمانی کے متعلق بحث:
	جہاں تک میدانِ جہاد سے بھاگنے اور ماں باپ کی نافرمانی کا معاملہ ہے تو قیاس کے مطابق ان کو مَحلِّ توقُّف میں ہونا چاہئے۔ جب یہ قطعی طور پر معلوم ہے کہ لوگوں کو مار پیٹ کرنے، ان کا مال چھین کر یا انہیں ان کے گھروں اور شہروں سے نکال کر یا انہیں جَلاوطن کرکے ان پر ظُلْم کرنے اور زِنا کی تہمت لگانے کے علاوہ کوئی بھی گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے نہیں کیونکہ یہ(احادیث وآثار میں) بیان کردہ 17کبیرہ گناہوں میں شامل نہیں اور اس مَقام پر اکثر یہی کہا گیا ہے۔ جب مُعامَلہ  ایسا ہے تو اس میں بھی توقُّف کرنا عقل سے بعید نہیں مگر چونکہ حدیث شریف اس کو کبیرہ کہنے پر دلالت کرتی ہے ،لہٰذا اسے بھی کبیرہ گناہوں کے ساتھ ملایا جائے گا۔
کبیرہ گناہ سے مراد:
	خلاصَۂ کلام یہ ہے کہ کبیرہ سے ہماری مراد وہ گناہ ہیں جن کاکفارہ شرعی طور پر پانچ نمازیں نہ بن سکیں۔ ان میں سے بعض وہ گناہ ہیں جن کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہے کہ نمازیں ان کو نہیں مٹاتیں اور بعض وہ ہیں کہ نمازوں کو ان کے لئے کفارہ بننا چاہئے جبکہ بعض کے متعلق توقف کیا جاتا ہے۔ جن کے بارے میں توقف کیا جاتا ہے ان میں سے بعض کے بارے میں نفی واثبات دونوں کا گمان ہوتا ہے اور بعض میں شک ہوتا ہے اور یہ شک ایسا ہوتا ہے جسے صرف قرآن یا سنت کی واضح دلیل ہی زائل کرسکتی ہے اس میں طمع وجستجو کی کوئی گنجائش نہیں ،لہٰذا اس میں موجود شک دور کرنے کی کوشش محال ہے۔