Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
629 - 882
سوال کی دیگر شرائط کی مثال:
	جس چیز کا سوال کیا جائے وہ چیز مباح ہو،دینے والاخوش دلی کے ساتھ دےاور مانگنے والا کمانے پر قادر نہ ہو کیونکہ جو شخص کمانےپر قادر ہونے کے باوجود نہ کمائے  اس کےلئےسوال کرنا جائز نہیں۔  مثلاً:جسے لکھنا آتا ہو وہ کتابت کرکے رزقِ حلال کماسکتا ہے البتہ طالِبِ عِلْمِ دِین جس کے تمام اوقات حُصُولِ علم کے لئے مختص ہوں وہ کسب پر قادر ہونے کے باوجود سوال کرسکتا ہے۔ 
چوتھی صورت:
٭…ایسی چیز جس کی ضرورت نہ ہو:مثلاً: کسی چیز کا سوال کرے حالانکہ اس کے پاس اس جیسی ایک یا مُتَعَدَّد اشیاء موجود ہیں تو ایسی چیز کا سوال کرناحرامِ قطعی ہے۔
	یہ دونوں یعنی پہلی اور چوتھی صورت تو بالکل واضح ہیں۔
دوسری صورت:
٭…ایسی چیز جس کی شدید ضرورت ہو: مثلاً:مریض جسے دوا کی حاجت ہواور دوا استعمال نہ کرنے پر نقصان کا خوف ہو لیکن یہ اندیشہ غالب نہ ہویا جیسے سردی کے موسم میں ایک شخص نے جُبّہ تو پہن رکھا ہو لیکن اس کے نیچے قمیض نہ ہو اور اسے سردی سے ایسی تکلیف پہنچے جو قابلِ برداشت ہو،یونہی ایک شخص مشقت اٹھاکر پیدل سفر کرنے پر قادر  ہواس کے باوجود اس کا کرائے کے لئے سوال کرنا۔اس صورت میں اگرچہ صبر کرنا اور سوال نہ کرنا افضل ہے اور سوال کرنے والا ترکِ اَولیٰ کا مرتکب ہوگا لیکن بہرحال مذکورہ صورت میں سوال کرنا  مباح ہے کیونکہ یہ حقیقی ضرورت ہے ۔اس صورت میں سوال کرنے والا اگر سچ بول کرمانگے تو اس کے سوال کو مکروہ نہیں کہا جائے گا۔مثلاً: اس طرح سوال کرے:میں نے جبے کے نیچے قمیض نہیں پہن رکھی اور سردی کی وجہ سےمجھے اتنی تکلیف ہورہی ہے جسے میں برداشت تو کرسکتا ہوں لیکن اس میں مشقت ہے ۔جب سوال کرنے والا اس طرح سچ بول کر مانگے گا تو اِنْ شَآءَاللہعَزَّ  وَجَلَّاس کا سچ بولنا سوال کرنے کا کفارہ بن جائے گا۔ 
تیسری صورت:
٭…ایسی چیز کا سوال کرنا جس کی معمولی ضرورت ہو:مثلاً: کسی کا لباس پھٹا ہوا ہے اور وہ قمیض کا سوال