اس کے مالک کو واپس کرنا چاہئے لیکن یہاں یہ معلوم کرنا مشکل تھا کہ کون سی روٹی کس شخص کی ہےاس لئے اب یہ ایک ایسا مال تھا جس کا کوئی مالک نہ تھا۔اس طرح کا مال مسلمانوں کے مصالح میں استعمال کرنا چاہئے اور صدقے کے اونٹوں کا چارہ بھی مسلمانوں کے مصالح میں داخل ہے اس لئےآپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے وہ روٹیاں صدقے کے اونٹوں کو کھلادیں۔
سائل کاخود کوضرورت مند ظاہر کرکے مال حاصل کرنا جھوٹ ہے جیسے کوئی شخص خودکوعَلَوی(یعنی امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی اولاد)ظاہر کرکے مال حاصل کرے درحقیقت وہ عَلَوی نہ ہوتو وہ اس مال کا مالک نہ ہوگا۔ایسے ہی وہ شخص جو خود کو صوفی اور نیک ظاہر کرے جس کے سبَب لوگ اسے مال دیں لیکن وہ پوشید ہ طور پر ایسے گناہوں کا مُرتکب ہو کہ اگر دینے والے کو ان کا علم ہوجائے تو اسے ہرگز نہ دے۔ہم اس سے پہلے بھی متعدَّد مَقامات پر یہ بات بیان کرچکے ہیں کہ مذکورہ افراد اس طرح حاصل کردہ مال کے مالک نہیں بنتے،یہ مال ان کے لئے حرام ہے اور ان پر لازم ہے کہ اسے اس کے مالک تک پہنچادیں۔
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعُمَرفارُوقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی نظر مذکورہ نکتے پر تھی جس سے کثیر فقہا بھی غافل ہیں اور ان کی اس غفلت کے سبَب امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے مذکورہ فعل پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔
سوال کی چار صورتیں اور ان کے اَحکام:
ہمارے گزشتہ کلا م سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہوچکی ہے کہ سوال صرف ضرورت کے وقت مباح ہوتا ہے،اب یہ بات بھی ذِہْن نشین کرلیجئے کہ جس چیز کا سوال کیا جائے وہ چار حال سے خالی نہیں ہوتی:(۱)وہ چیز انسان کی مجبوری ہوکہ اس کے بغیر گزارہ نہیں ہوسکتا۔(۲)اس چیز کی شدیدحاجت ہو۔ (۳)معمولی ضرورت ہو۔(۴)اس کی ضرورت نہ ہو۔
پہلی صورت:
٭…ایسی چیز جو انسان کی مجبوری ہو: مثلاً:ایسا بھوکا شخص جسے بھوک سے موت یا شدید مرض کا اندیشہ ہو اس کا کھانا مانگنا یا پھر بے لباس شخص جس کے پاس سَترِ عورت کے لئے کپڑا نہ ہواس کا کپڑا مانگنا ،سوال کی دیگر شرائط پائی جانے کی صورت میں اس قسم کا سوال جائزہے۔