سنی تومذکورہ شخص سے فرمایا:میں نے تم سے کہا تھا کہ اسے کھانا دے دو۔اس نےعرض کی:حضور!میں نےاسے کھانا دےدیاتھا۔امیرالمؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےاس سائل کے پاس روٹیوں سے بھرا ایک تھیلا دیکھا تو فرمایا:تم سائل نہیں بلکہ تاجرہو۔پھر اس سےتھیلالے کر روٹیا ں صَدَقے کے اونٹوں کے سامنے ڈال دیں اوراسے دُرّے مارتے ہوئے فرمایا:دوبارہ سوال مت کرنا۔
اگر اس شخص کا سوال کرنا حرام نہ ہوتا توامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعُمَرفارُوقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نہ تو اسے مارتے اور نہ ہی اس سے اس کا تھیلا لیتے۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
ہوسکتا ہے کہ کوئی کم عقل اور تنگ نظر فقیہہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعُمَرفارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے اس فعل پر اعتراض کرتے ہوئے کہے کہ آپ کا سائل کو مارنا تادیباً(یعنی ادب سکھانے کےلئے)تھا،اس میں تو کوئی حرج نہیں کیونکہ شریعت نے حاکم کو تعزیر کا اختیار دیا ہے لیکن اس کا مال(یعنی روٹیاں)لے لینا مالی جرمانہ ہے اور شریعت نے مالی جرمانے کی اجازت نہیں دی تو بھلاامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعُمَرفارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جیسی شخصیت کیسے اس فعل کا اِرتکاب کرسکتی ہے؟
جواب:اس اعتراض کا سبَب عِلْمِ فقہ میں مَہارت نہ ہونا ہے۔امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعُمَرفارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکودِیْنِ متین کے اسرار ورُمُوزاور عِلْمِ فقہ پرجومہارتِ تامّہ حاصل تھی،تمام فقہا مل کر بھی اس تک نہیں پہنچ سکتے۔کیا آپ کو یہ بات معلوم نہ تھی کہ تعزیر بالمال جائزنہیں یامعلوم ہونے کے باوجوداللہعَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی پر غضب ناک ہوکر یہ قدم اٹھایایاپھرحضورسیِّدِعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے طریقےکے علاوہ کسی او رطریقے سے اس کی اصلاح کرنے کی کوشش کی۔یقیناًایسا ہرگز نہیں بلکہ یہ امور تو بذاتِ خود گناہ ونافرمانی ہیں۔امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے اس فعل کا سبَب یہ تھا کہ اس سائل کو دینے والے اسے محتاج سمجھ کر دے رہے تھے حالانکہ اسےسوال کرنے کی حاجت نہ تھی اور وہ جھوٹا تھا،چونکہ وہ دھوکا دے کر مال حاصل کررہا تھا اس لئے اسے دیا گیا مال اس کی ملک میں داخل نہیں ہوا تھا۔اس قسم کا مال