Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
626 - 882
(6)…اِسْتَغْـنُوْا عَنِ النَّاسِ وَمَا قَلَّ مِنَ السُّؤَالِ فَهُوَ خَيْرٌ قَالُوْاوَمِنْکَ یَارَسُوْلَ اللہ قَالَ وَمِنِّییعنی لوگوں سے سوال کرنے سے بچو اور سوال جتنا کم ہو اتنا اچھا ہے۔عر ض کی گئی:آپ سے بھی؟ارشادفرمایا:مجھ سے بھی(1)۔(2)
تم سائل نہیں تاجر ہو:
	امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعُمَرفارُوق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مغرب کے بعد کسی کے مانگنے کی آواز سنی تو ایک شخص سے فرمایا:اسے کھانا دے دو۔اس نے دے دیا۔کچھ دیر بعد پھر اس کے مانگنے کی آواز
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…حضورنبیّ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکایہ فرمان کثرتِ سوال کی قباحت بیان کرنے کے لئے بطورِتنبیہ ہے سوال کرنااس صورت میں ممنوع ہے کہ ذِلَّت کاسامناکرنا پڑے۔جہاں تک قاسِمِ نعمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مانگنے کاتعلق ہے تویہ توہرایک کے لئے باعِثِ فخرہے۔نیزاحادیث سے بھی ثابت ہے کہ صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےرسولُاللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے نہ صرف دنیاوی چیزوں کا سوال کیا بلکہ جنت بھی مانگی۔چنانچہ مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُناربیعہ بن کعبرَضِیَ اللہُ عَنْہفرماتے ہیں:میں حضورنبیّ کریمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم(کی خدمت گزاری کے لئے)رات بارگاہِ اقدس میں گزارتا، ایک شب میں وضوکے لئے پانی اورضروریات(مسواک،مصلیٰ وغیرہ)لے کرحاضر خدمت ہواتودریائے رحمت جوش میں آیا اورمجھ سے ارشادفرمایا:’’کچھ مانگ لو۔‘‘میں نے عرض کی:’’میں آپ سےجنت میں آپ کا ساتھ مانگتاہوں۔‘‘ارشاد فرمایا:’’اس کے سواکچھ اوربھی۔‘‘عرض کی:’’بس یہی۔‘‘ارشاد فرمایا:’’اپنی ذات پر زیادہ سجدوں سے میری مددکرو۔‘‘(مسلم،کتاب الصلاة،باب فضل السجودوالحث علیہ،ص۲۵۲،حدیث:۴۸۹) مفسرشہیر،حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح،جلد2،صفحہ84پرحدیث پاک کے جز’’جنت میں آپ کاساتھ مانگتاہوں‘‘کے تحت فرماتے ہیں:یعنی مجھے آپ جنت میں اپنے ساتھ رکھیں۔جیسے بادشاہ شاہی قلعہ میں اپنے خاص خادموں کواپنے ساتھ رکھتے ہیں۔خیال رہے کہ حضرت ربیعہ(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)نے اس جگہ حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے حسب ذیل چیزیں مانگیں۔زندگی میں ایمان پر استقامت، نیکیوں کی توفیق،گناہوں سے کنارہ کشی،مرتے وقت ایمان پر خاتمہ،قبرکے حساب میں کامیابی،حشر میں اعمال کی قبولیت،پل صراط سے بخیریت گزر،جنت میں رب(عَزَّ  وَجَلَّ)کافضل وبلندیٔ مراتب۔یہ سب چیزیں صحابی نے حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے مانگیں اورصحابی کوحضورنے بخشیں لہٰذاہم بھی حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے ایمان،مال،اولاد، عزت،جنت سب کچھ مانگ سکتے ہیں یہ مانگناسنَّتِ صحابہ ہے حضورکے لنگر سے یہ سب کچھ قیامت تک بٹتارہے گااورہم بھکاری لیتے رہیں گے۔
	نیزاس حدیثِ پاک سے صریح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اپنی حاجتوں کوطلب کرنااوراپنی مرادوں کوحضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مانگنابلاشبہ جائزودرست بلکہ سُنَّتِ رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اورطریقَۂ صحابہعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانہے۔توجولوگ انبیاواولیاکومجبورمحض مانتے اورغیراللہسے کچھ مانگنے کوشرک قراردیتے ہیں انہیں اس حدیث سے عبرت حاصل کرنی چاہئے۔(بہشت کی کنجیاں،ص۷۹،ملخصًا)
2…المعجم الکبیر،۱۱/ ۳۵۱،حدیث :۱۲۲۵۷،مختصراً
	قوت القلوب،الفصل الحادی والاربعون فی ذکرفضائل الفقر…الخ،۲/ ۳۲۵