Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
624 - 882
٭…دوسری آفت:سوال کرنے والا خود کوغیراللہ کے سامنے ذلیل کرتا ہے اور کسی مسلمان کے لئے  جائز نہیں کہ وہ خودکو ذلت پر پیش کرے بلکہ اس پر لازم ہےکہاللہعَزَّ  وَجَلَّکی بارگاہ میں عاجزی اختیار کرے کہ ایسا کرنا عزت کا باعث ہے۔یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ سوال کرنا سائل کے لئے باعِثِ ذِلَّت ہے کیونکہ اس کی طرح  تمام لوگاللہعَزَّ  وَجَلَّ کے بندے ہیں،لہٰذا اسے چاہئےکہ بلاضرورت ان کے سامنے خود کو ذِلَّت پر پیش نہ کرے۔
٭…تیسری آفت:جس شخص سے سوال کیا جاتا ہے سائل اکثر اس کی ایذا کا باعِث بنتا ہے کیونکہ بعض اوقات اس کا دل دینے پر آمادہ نہیں ہوتا لیکن وہ سائل سےشرم کرتے ہوئے یا لوگوں کے دکھانے کےلئے دیتا ہے، ایسی صورت میں سائل کے لئے لینا حرام ہے۔اگر وہ نہ دے تو اسے شرم آتی ہے اور یہ منع کرنا اس کے لئے قلبی تکلیف کا سبَب بنتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ میں نے کنجوسی کی ہے۔دینے کی صورت میں مال کا جبکہ نہ دینے میں عزت کا نقصان ہوتا ہے،یہ دونوں باتیں تکلیف دہ ہیں اور اس تکلیف کا سبب  سوال کرنے والا بنتا ہےجبکہ بلا ضرورت کسی مسلمان کو تکلیف دینا حرام ہے۔
	مذکورہ تین آفات کو سمجھنے کے بعد ان روایات  کوآپ باآسانی سمجھ سکتے ہیں:
سوال کرنے کی مَذمَّت پر مشتمل چھ فرامین مصطفٰے:
(1)…مَسْاَلَةُ النَّاسِ مِنَ الْفَوَاحِشِ مَااُحِلَّ مِنَ الْفَوَاحِشِ غَيْرُهَایعنی لوگوں سے سوال کرناسخت بے حیائی کا کام ہے اور برائیوں میں سے صرف یہی مباح رکھی گئی ہے۔(1)
	ذرا غور کر وکہ حضورسیِّدعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سوال کرنے کوسخت بُراکام قرار دیا  ہے اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس طرح کا کام صرف ضرورت کے وقت مباح ہوتا ہے جیسے کسی کے گلے میں لقمہ پھنس جائے اور شراب کے علاوہ کچھ اور نہ ملے تولقمہ گلے سے اُتارنے کے لئے شراب پینا مباح ہے(2)۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…قوت القلوب،شرح مقام التوکل ووصف احوال المتوکلین ،۲/ ۲۶
2…حالَتِ اکراہ میں بعض صورتوں میں عمل فرض ہوتا ہےجیسے اپنی جان بچانے کے  لئے مردارکھانا اورشراب پی لینا۔(بہارشریعت،حصہ۱۹، ۳/ ۱۰۷۸)
	بھوک یاپیاس سے جان نکلی جاتی ہے اورکھانے یاپینے کو حرام کے سواکچھ نہیں،اب اگرترک کرے(یعنی حرام چیز استعمال نہ کرے)توگناہ گارہوگااور حرام موت مرے گا۔بلکہ فرض ہے کہ جان بچانے کی قدراِستعمال کرے۔………………..