لہٰذافقیر کو چاہئے کہ دینے والے کو حقیقتاًدینے والا نہ سمجھے بلکہ یہ گمان رکھے کہ اسےاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے دینے کے لئے مقرر فرمایا ہے تاکہ اسے ثواب حاصل ہو۔
ساتویں فصل: بلاضرورت سوال کی حرمت اور
مجبور فقیر کے آداب
سوال کرنے کی ممانعت کے بارے میں کئی روایات مروی ہیں جن میں شدید وعیدیں بیان کی گئی ہیں البتہ بعض رِوایات میں سوال کرنے کی اجازت بھی موجود ہے۔چنانچہ،
سوال کرنے کی ا جازت پر مشتمل دوفرامین مصطفٰے:
(1)…لِلسَّآئِلِ حَقٌّ وَّلَوْ جَآءَ عَلٰى فَرَسٍ یعنی مانگنے والے کا حق ہے کہ اسے دیا جائے اگرچہ گھوڑے پر سوار ہوکر آئے۔(1)
(2)…رُدُّوا السَّآئِلَ وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحَرَّقٍیعنی مانگنے والے کا سوال پورا کرو اگرچہ جلے ہوئے کُھر کے ذریعے۔(2)
اگر سوال کرنا مطلقاً حرام ہوتا تو پھر اس کا اِرتکاب کرنے والے کی مدد کرنا ہرگز جائز نہ ہوتا جبکہ دینے میں مانگنے والے کی اِعانت(مدد) ہے۔دونوں قسم کی روایات میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ اصل کے اعتبار سے سوال کرنا حرام ہے صرف کسی شدید حاجت وضرورت کے وقت اس کی اجازت ہے اور اگر سُوال کے بغیر بھی کام چل سکتا ہو تو پھر کسی صور ت میں سوال کی اجازت نہیں۔
سوال میں پائی جانے والی تین آفات:
ہم نے سوال کو اصل کے اعتبار سے اس لئے حرام قرار دیا ہے کیونکہ اس میں یہ تین حرام باتیں ضرور پائی جاتی ہیں:
٭…پہلی آفت:سوال کرنے میں اللہعَزَّ وَجَلَّ کی شکایت کرنا پایا جاتا ہےکیونکہ سوال کرنے والا اپنے فقر کا اظہار اور اللہعَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں کی کمی کا تذکرہ کرتا ہے،درحقیقت یہاللہعَزَّ وَجَلَّکی شکایت ہے کہ جس طرح کسی شخص کے غلام کے سوال کرنے میں اس شخص کی بدنامی ہے اسی طرح بندگانِ خدا کے سوال کرنے میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی شکایت ہے۔اسی بنا پر بلا ضرورت سوال کرنا حرام ہے جیسا کہ بلا ضرورت مردار کھانا حرام ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… سنن ابی داود، کتاب الزکاة، باب حق السائل،۲/ ۱۷۶،حدیث: ۱۶۶۵
2…سنن النسائی،کتاب الزکاة، باب ردالسائل،ص۴۲۱،حدیث:۲۵۶۲