تقسیم کردیا جائے۔جب اس بات کی وضاحت طلب کی گئی تو فرمایا:اقویا سے مراد وہ نُفُوسِ قُدْسِیَّہ ہیں جواللہ عَزَّ وَجَلَّ پر کامل توکُّل رکھتے ہیں،اسخیا وہ ہیں جواللہعَزَّ وَجَلَّ کے بارے میں حسْنِ ظن کے اعلیٰ درجے پر فائز ہیں اور اغنیا وہ ہیں جو مخلوق سے کنارہ کشی کرکے صرفاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہوجائیں۔
خلاصہ:اگرفقیر ، مال اورمال دینے والے میں مذکورہ شرائط پائی جائیں تو پھر ہدیہ قبو ل کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن اس صورت میں ملنے والی چیز کواللہعَزَّ وَجَلَّکی عطا تصور کرے نہ کہ دینے والے کی،دینے والا شخص تو محض ایک واسطہ ہے جس کے دل میں ارادہ پیدا فرماکر اور اسے توفیق عطا فرماکر اللہعَزَّ وَجَلَّنے اس نیک کام کا ذریعہ بنایا ہے۔
توحیدِ کامل کا مظاہرہ:
منقول ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُناشقیق بَلْخِیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کی ان کے50مریدین کے ساتھ دعوت کی اوران کے سامنے خوبصورت دسترخوان سجایا۔حضرت سیِّدُناشقیق بَلْخِیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِیجب تشریف فرما ہوئےتو اپنے مریدین سےفرمایا:ہمارے میزبان کاکہنا ہے کہ جو شخص اس کھانے کو میری طرف سے نہیں سمجھتا اس پر اس کا کھانا حرام ہے۔یہ سن کر آپ کے تمام مریدین وہاں سے چلے گئے صرف ایک نوجوان بیٹھا رہا جودیگر لوگوں سے کم مرتبہ تھا۔میزبان نے حضرت سیدنا شقیق بَلْخِیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی سے عرض کی:حضور!آپ نے ایسا کیوں کیا؟فرمایا:میں اپنے مریدین کا امتحان لینا چاہتا تھا کہ یہ توحید کے معاملے میں کامل ہوچکے ہیں یا نہیں۔
حضرت سیِّدُناموسٰیکَلِیْمُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بارگاہِ خداوندی میں عرض کی:یااللہعَزَّ وَجَلَّ! تو نے میری روزی بنی اسرائیل کے حوالے کردی ہے کہ مجھےصبح کا کھانا ایک شخص دیتا ہے اور شام کا دوسرا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشادفرمایا:اپنے محبوب بندوں کے بارے میں میرا یہی طریقہ ہے کہ میں انہیں ان کی روزی بے کار لوگوں کے ذریعے عطا فرماتا ہوں تاکہ میر ے محبوب بندوں کے طفیل انہیں بھی ثواب حاصل ہو۔