Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
621 - 882
 جلد سے جلد فقراپر خرچ کردے جمع کرکے نہ رکھے کیونکہ ایسے مال کو ایک رات کے لئےرکھنا بھی فتنے کا سبب بن سکتا ہے،ممکن ہے کہ دل میں مال کی محبت پیدا ہوجائےاور اس کا غلط استعمال کرکے بندہ ہلاکت کا شکار ہوجائے۔کچھ لوگوں نے فقرا کی خدمت کا سلسلہ شروع کیا لیکن پھر اسے جمْعِ مال اور کھانے پینے کا ذریعہ بنالیا،یہ سراسر ہلاکت کا راستہ ہے۔
	جس شخص کا مقصودحصولِ ثواب اور فقرا کی خدمت کرنا ہو وہاللہعَزَّ  وَجَلَّ کے ساتھ حسْنِ ظن رکھتے ہوئے قرض بھی لے سکتا ہےلیکن ظالم بادشاہوں پر بھروسا کرتے ہوئےقرض لینے کی اجازت نہیں۔پھر اگراللہعَزَّ  وَجَلَّ اسے مالِ حلال عطا فرمائےتوقرض ادا کردے اور اگر یہ شخص قرض ادا کرنے سے پہلے فوت ہوگیا تو اللہعَزَّ  وَجَلَّاس کا قرض ادا فرمائےگا اور قرض خواہوں کو اس سے راضی فرمادے گا۔ اس صورت میں قرض لینے کےلئے یہ ضروری ہے کہ قرض دینے والے کو نہ تو دھوکادے اور نہ ہی اس سے جھوٹے وعدے کرے بلکہ واضح طور پر اسے اپنی حالت بتادےتاکہ وہ سوچ سمجھ کرقرض دے۔ایسا شخص اگر قرض ادا کرنے سے پہلے فوت ہوجائے تو پھر لازم ہے کہ اس کا قرض بیت المال یا پھر اموالِ زکوٰۃ سے ادا کیا جائے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّارشادفرماتا ہے: وَ مَنۡ قُدِرَ عَلَیۡہِ رِزْقُہٗ فَلْیُنۡفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىہُ اللہُ ؕ (1)ايك قول کےمطابق اس آیت کا معنیٰ یہ ہے کہ اپنے دو کپڑوں میں سے ایک کو بیچ کر خرچ کرے جبکہ ایک قول  یہ ہے کہ اپنی وجاہت کو استعمال کرکے خرچ کےلئے قرض حاصل کرےکیونکہ یہ وجاہت بھی اسےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے عطا فرمائی ہے۔
خرچ کرنے والوں کی اقسام:
	ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:اللہعَزَّ  وَجَلَّکے کچھ بندے ایسے ہیں جو اپنے پاس موجود مال کے حساب سے خرچ کرتے ہیں اور کچھ ایسے بندے بھی ہیں جواللہعَزَّ  وَجَلَّکے ساتھ اپنے حسْنِ ظن کے مطابق خرچ کرتے ہیں۔
قوی،سخی اور غنی کی تعریف:
	ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے انتقال سے قبل وصیت فرمائی کہ میرا مال اَقْوِیا،اَسْخِیااوراَغْنِیا میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…ترجمۂ کنز الایمان:اور جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا وہ اس میں سے نفقہ دے جو اسے اللہنے دیا۔(پ۲۸،الطلاق:۷)