سے محفوظ رکھے،اور جواس سےزائدہے اس کا حساب ہوگا(1)۔(2)
اس حدیْثِ پاک سے یہ درس ملا کہ مذکور ہ تین چیزیں بقدرِحاجت استعمال کرنے پر ثواب حاصل ہوگا جبکہ ضرورت سے زیادہ استعمال کرنا دو حال سے خالی نہیں:گناہ و نافرمانی کے کاموں میں استعمال کیا تو عذابِ نار کا حق دار ہوگا اور گناہوں میں استعمال نہ کیا تو پھر بھی حساب دینا ہوگا۔
آزمائش کی ایک صورت:
بعض اوقات بندہاللہعَزَّ وَجَلَّ کا قرب پانے اور نفس کو مغلوب کرنے کےلئے کسی دنیوی لذت کو ترک کرنے کاارادہ کرتا ہے لیکن وہی چیز بغیر کسی لالچ اور طَلَب کے بندے کے پاس آجاتی ہےتاکہ اس کا امتحان لیا جائے کہ وہ اسے حاصل کرتا ہے یا ترک کردیتا ہے۔ایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ اس چیز کو ترک کردیا جائے کیونکہ جب ایک مرتبہ نفس کو عہد توڑنے کی اجازت دے دی جائے تو پھر وہ اس بات کا عادی بن جاتا ہے اور اپنی پرانی عادت پر گام زن ہوجاتا ہے،نیز اگر اس چیز کو قبول کرکے خفیہ طور پر کسی محتاج کو دے دیا جائےتو یہ انتہا درجے کا زُہْد ہے جس پر صرف صِدِّیقین کو قدرت حاصل ہوتی ہے۔
ضرورت سے زیادہ مال قبول کرنے کی دوسری صورت:
فقیر اگر سخاوت کرنے والا ،دوسرے فقرا اور نیک لوگوں کی کفالت کرنے والا ہو تو اسے چاہئے کہ ضرورت سے زائد مال قبول کرلے کیونکہ وہ دیگر فقرا کی ضرورت سے زیادہ نہیں ہے لیکن لینے کے بعد اسے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مفسرشہیر،حکیم الامت مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمراٰۃ المناجیح،جلد7،صفحہ23پر اس کے تحت فرماتے ہیں:ان تین چیزوں کے سوا اور کسی چیز کی ضرورت نہیں قیامت میں ان تین کا حساب نہ ہوگا ان کے سوا اور چیزوں کا حساب دینا ہوگا۔رب تعالیٰ فرماتا ہے: ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیۡمِ ٪﴿۸﴾ (پ۳۰،التکاثر:۸،ترجمۂ کنزالایمان:پھربے شک ضروراس دن تم سے نعمتوں سے پرسش ہوگی۔)وہاں نعیم سے مراد عیش و عشرت کی چیزیں ہیں خیال رہے کہ شخصی زندگی فانی ہے قومی اور دینی زندگی باقی ہے لہٰذا مسلمان اپنی شخصی زندگی کے لئے معمولی سامان اختیار کرے قومی ودینی زندگی کے لئے قیامت تک کا انتظام کرے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دین اور قوم کے لئے ممالک فتح کئے مگر اپنی ذات کے لئے آرام دہ مکان بھی نہ بنایا یہاں شخصی زندگی اور شخصی حاجتوں کا ذکر ہے۔
2… سنن الترمذی،کتاب الزھد،باب ماجاء فی الزھادةفی الدنیا،۴/ ۱۵۲،حدیث:۲۳۴۸،بتغیر