Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
62 - 882
گناہوں میں سے ہو نیز اس کے کبیرہ ہونے پر شرعی سختیاں اور فکر ونظر بھی دلالت کرتے ہیں کيونكہ جس طرح نفس(جان) کی حفاظت واجب ہے اسی طرح عقل کی حفاظت بھی واجب ہے بلکہ عقل کے بغیر نفس میں کوئی بھلائی نہیں ہے ،لہٰذا (نشہ آور چیزوں سے) عقل کو زائل کردینا کبیرہ گنا ہوں میں سے ہے۔ البتہ! یہ حکم شراب کے ایک قطرے میں جاری نہیں ہوتا۔ پس اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر کسی نے ایسا پانی پیا جس میں ایک قطرہ شراب تھی تو یہ کبیرہ گناہ نہیں بلکہ یہ نجس وناپاک پانی پینا ہے اور شراب کا ایک خالص قطرہ پینے کا حکم مشکوک ہے جبکہ شریعت کا اس پر حد واجب کرنا اس جرم کے بڑا ہونے کی دلیل ہے ،لہٰذا بتقاضائے شریعت اسے کبیرہ شمار کیا جائے گا۔ شریعت کے تمام اسرار پر مطلع ہونا بشری طاقت سے باہر ہے۔ اَلْغَرَض اگر کسی شے کے کبیرہ ہونے پر اجماع (یعنی علمائے اُمت کا اتفاق) ثابت ہوجائے تو اس کی پیروی واجب ہے ورنہ اس میں توقف کی گنجائش موجود ہے۔
تہمت کے کبیرہ ہونے کے متعلق بحث:
	جہاں تک قَذف یعنی تہمت لگانےکا تعلق ہے تو اس میں عزت وآبرو کو پامال کیا جاتا ہے اور درجہ کے لحاظ سے مال عزت سے پہلے ہے۔ تہمت لگانے کے کئی مراتب ہیں:ان میں سب سے بڑی تہمت یہ ہے کہ کسی کی  طرف کھلم کھلا زنا کی نسبت کرکے اس پر تہمت لگائی جائے (جیسے کسی سے کہنا:اے زانی! یا اے زانیہ! وغیرہ)۔ شریعت نے اس معاملہ کو  بہت بڑا قرار دیا ہے اور میرا ظَنِّ غالِب ہے کہ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ہر اس گناہ کو کبیرہ گناہ شمار کرتے تھے جس سے حد (یعنی مُقَرَّرکردہ اسلامی سزا) واجب ہوتی ہے۔ پس اسی اعتبار سے پانچوں فرض نمازیں اس کبیرہ گناہ کو نہیں مٹاتیں۔ یہاں کبیرہ گناہ سے ہماری یہی مراد ہے مگر اس حیثیت سے کہ اس میں شریعتوں کا اختلاف ممکن ہے ،لہٰذامحض قیاس اس گناہ کے کبیرہ اور عظیم ہونے پر دلالت نہیں کرتا بلکہ شریعت کایوں وارد ہونا ممکن تھا کہ”اگر ایک عادل شخص کسی انسان کو زنا کرتے ہوئے دیکھ لے تو اسے چاہئے کہ گواہی دے اور جس کے خلاف گواہی دی گئی اسے صرف اس گواہی کے سبب کوڑے لگائے جاتے اور اگراس کی گواہی قبول نہ کی جاتی تودنیاوی مصلحتوں کے پیشِ نظراسے حد لگانابھی ضروری نہ ہوتا اگرچہ ضرورتوں کے درجہ میں آنے والے بعض ظاہری مصالح کے موافق ہوں۔“ جب اس کامعاملہ بھی ایسا ہے تو یہ اس آدمی کے حق میں کبیرہ گناہوں کے ساتھ ملایا جائے گا جوحکْمِ شریعت کی پہچان