ہے؟اس فقیر کا لباس پھٹا پرانا تھا جو پوری طرح اس کے جسم کو بھی نہیں چھپا رہا تھا۔میں نے دل میں سوچا کہ اپنے درہم خرچ کرنےکا اس سے اچھا موقع مجھے نہیں ملے گا۔چنانچہ میں نے وہ دراہم لا کر اس کے سامنے رکھ دئیے۔ فقیر نے ان میں سے پانچ درہم لئے اور کہا:چار درہم میں دو چادریں آجائیں گی اور ایک درہم تین دن کے کھانے کے لئے کافی ہے،اس سے زیادہ کی مجھے ضرورت نہیں۔یہ کہہ کر اس نے باقی دراہم واپس کردئیے۔اگلی رات میں نے دیکھا کہ وہ فقیر دو نئی چادریں اوڑھ کر طواف کررہا ہے،یہ دیکھ کر میرے دل میں اس کے بارے میں بدگمانی پیدا ہوئی۔وہ شخص فوراً میرے پاس آیا اور میرا ہاتھ پکڑ کر طواف کے سات چکر لگائے،ہر پھیرے میں زمین کے خزانوں میں سے کوئی خزانہ ظاہر ہوتا اور ہمارےٹخنوں تک آجاتاجو سونا ، چاندی،یاقوت اور ہیرے جواہرات پر مشتمل ہوتا لیکن وہاں موجود دیگر لوگوں پر ہماری یہ کیفیت ظاہر نہ ہوئی۔فقیر نے مجھ سے کہا:اللہ عَزَّ وَجَلَّنےمجھے یہ سب کچھ عطا فرمایا ہے لیکن میں نے اسے چھوڑ دیا کیونکہ یہ بوجھ اور آزمائش ہے اورمیں لوگوں سے اس لئے لیتا ہوں کہ اس میں لوگوں کے لئے رَحمت اور نِعْمَت ہے۔
اس حکایت کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّامتحان اورآزمائش کے طور پربندے کو ضرورت سے زائد مال عطا فرماتا ہے کہ وہ اس مال کا کیسا استعمال کرتا ہے جبکہ بقدرِ ضرورت مال بندے پر شفقت فرماتے ہوئے عنایت فرماتا ہے، لہٰذا انسان کوامتحان اور شفقت کے فرق سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیۡنَۃً لَّہَا لِنَبْلُوَہُمْ اَیُّہُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ﴿۷﴾ (پ۱۵،الکھف:۷)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک ہم نے زمین کا سنگار کیا جو کچھ اس پر ہے کہ انہیں آزمائیں ان میں کس کے کام بہتر ہیں۔
ابن آدم کا حق صرف تین چیزوں میں ہے:
دوعالَم کے مالک و مختاربِاذْنِ پَرْوَرْدَگارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:لاَ حَقَّ لِابْنِ اٰدَمَ اِلَّا فِیْ ثَلَاثٍ طَعَامٌ يُّقِيْمُ صُلْبَهٗ وَثَوْبٌ يُّوَارِیْ عَوْرَتَهٗ وَبَيْتٌ يَّكُنُّهٗ فَمَا زَادَ فُهَوَ حِسَابٌیعنی ابن آدم کا حق صرف تین چیزوں میں ہے:(۱)اتنا کھانا جو اس کی پیٹھ سیدھی رکھے۔(۲)اتنا لباس جواس کی سَتْر پوشی کرے۔(۳)ایک گھر جو اس کو سردی گرمی