Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
618 - 882
 ہوتا ہے اور جو شخص ممنوعہ علاقے کے قریب جاتا رہے وہ ایک نہ ایک دن ممنوعہ علاقے میں داخل ہوجاتا ہے۔اس صورت میں اگر فقیر زائد مال قبول کرلے تو بھی اسے  درج ذیل طریقوں پر عمل کرنا چاہئے:
٭…پہلاطریقہ:علانیہ طور پرلے کر پوشیدہ طورپرلوٹادے یا پھر تقسیم کردے۔یہ صدیقین کا مقام ہےاور نفس کے لئے انتہائی دشوار ہے،صرف وہی شخص اس مقام کو پاسکتا ہے جس نے عبادت وریاضت کے ذریعے نفس کو مغلوب کرلیا ہو۔
٭…دوسرا طریقہ:آنے والے مال کو بالکل قبول نہ کرے تاکہ دینے والااس سے زیادہ ضرورت مند کو دیدےیا پھر قبول کرکےایسے شخص تک پہنچادےجو اس سے زیادہ حاجت مند ہو۔یہ دونوں کام یا توعلانیہ طور پر کرے یا پوشیدہ طورپر ۔
	’’کتابُ اَسْرارِالزَّکوٰۃ‘‘میں ہم نے فقر کے چند دیگر احکام کے ساتھ اس بات کو بھی بیان کیا ہے کہ ہدیہ قبو ل کرنے کو ظاہر کرنا افضل ہے یا چھپانا،اس بحث کو وہاں دیکھ لیا جائے۔
	حضرت سیِّدُناامام احمدبن حنبلعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَوَّلنے حضرت سیِّدُناسَری سَقَطیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکا ہدیہ قبول نہ فرمایا کیونکہ ان کے پاس ایک مہینے کی غذاموجود تھی جس کی وجہ سے انہیں اس کی ضرورت نہ تھی، نیزانہوں نے اس ہدیہ کو قبول کرکے دوسروں کو دینا بھی گوارا نہ فرمایا کیونکہ اس میں بھی کئی خطرات درپیش ہوتے ہیں اور جو شخص شیطان کے واروں سے بے خوف نہ ہو اس کےلئے احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ خطرے والے مقام سے بھی دور رہے۔
حکایت:زمین کے خزانے دکھانے والا فقیر
	مکۂ  مکرمہزَادَھَااللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا کے رہنے والے ایک شخص کا بیان ہے کہ میرے پاس کچھ درہم تھے جنہیں میں نے راہِ خدا میں خرچ کرنے کے لئے رکھا ہوا تھا۔ایک دن میں نے دیکھا کہ ایک فقیر طوافِ کعبہ سے فارغ ہوکرغلافِ کعبہ سے لِپَٹ کر آہستہ سے کہہ رہا ہے:اےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ!اے وہ ذات جو سب کو دیکھتی ہے لیکن اسے نہیں دیکھا جاسکتا!تودیکھ رہا ہے کہ میں بھوکااور بے لباس ہوں۔اےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ!اب تو کیا فرماتا