Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
617 - 882
	ایک روایت میں ہے:مَنْ اَتَاهُ شَیْءٌ مِّنْ هٰذَا الْمَالِ مِنْ غَيْرِ مَسْئَلَةٍ وَّلَا اسْتِشْرَافٍ فَاِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللہ اِلَيْه فَلَا يَرُدَّهٗیعنی جس کے پاس لالچ اور سوال کے بغیر مال آئے تو وہ رزق ہے جو اس کے پا ساللہ عَزَّ  وَجَلَّکی طرف سے آیا ہے،لہٰذا اسے رد نہ کرے۔(1)
	بعض عُلَما فرماتے ہیں:جسے دیا جائے وہ نہ لے تو پھر اسے مانگنے پربھی نہ دیا جائے۔
	حضرت سیِّدُناسَری سَقَطیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیحضرت سیِّدُناامام احمدبن حنبلعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَوَّلکےپاس تحفے بھیجا کرتے تھے۔ایک مرتبہ انہوں نےہدیہ واپس کردیا توحضرت سیِّدُناسَری سَقَطی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:اے احمد!قبول نہ کرنےکی آفت سے بچو کیونکہ یہ لینے کی آفت سے زیادہ سخت ہے۔حضرت سیِّدُنا امام احمدبن حنبلعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَوَّلنے فرمایا:اپنی بات دہرائیے۔جب انہوں نے اپنی بات دہرائی تو فرمایا: میں نے آپ کا ہدیہ اس لئے واپس کیا تھا کیونکہ میرے پاس ایک مہینے کی غذا موجود ہے ،آپ اسے  اپنے پاس رکھ لیجئے اورایک مہینے بعدمجھے بھیج دیجئے گا۔
	بعض عُلَما فرماتے ہیں:ضرورت کے باوجود ہدیہ قبول نہ کرنے والے کے بارے میں اس بات کا اندیشہ ہے کہ اسےسزا کے طور پر  لالچ میں مبتلا کردیا جائے یا پھر وہ شبہات میں پڑجائے۔
ضرورت سے زائد مال قبول کرنے نہ کرنے کی دو صورتیں:
	فقیر کے پاس جو مال لایا گیا اگروہ اس کی ضرورت سے زائد ہو تو اس میں دو صورتیں ہیں:(۱)…وہ صرف اپنا ذمہ دار ہے،کسی اور کی کفالت اس کے ذمے نہیں۔(۲)… اپنی فطری نرمی اور سخاوت کے باعث دوسرے فقراپربھی خَرچ کرتااوران کی کفالت کرتا ہے۔
پہلی صورت کی تفصیل:
	اگر یہ فقیرراہِ آخرت  کا مسافر ہے توپھر اسےزائد مال قبول کرکے اپنے پاس جمع نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ایسا کرنا صرف خواہِشِ نفس کی بنا پر ہوگااور ہر وہ عمل جو رضائے الٰہی کے لئے نہ ہووہ شیطان کے راستے میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المعجم الکبیر،۵/ ۲۴۸،حدیث:۵۲۴۱، بتغیر قلیل