Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
616 - 882
 نیک سمجھ کر دے رہا ہو جبکہ یہ پوشیدہ طورپر گناہوں کا مرتکب ہوتا ہواور جانتا ہو کہ اگر دینے والے کو میرے ان گناہوں کے بارے میں علم ہوجائے تو وہ مجھ سے نفرت کرے گااورقربِ خداوندی پانے کے لئے مجھے صدقہ نہیں دے گاتو اس کے لئے ایسا صدقہ قبول کرنا حرام ہے ،جیسے کوئی شخص کسی کو عالِم یاعلوی (یعنی امیرالمؤمنین حضرت سیِّدنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی اولاد)سمجھ کر کچھ دے اور درحقیقت وہ ایسا نہ ہو تو بلاشبہ اس کے لئے اس چیز کا قبول کرنا حرام وناجائز ہے۔
٭…تیسری صورت لوگوں کو دکھانا ،سنانااور شہرت کا حصول ہے:اگرغرض لوگوں کو دکھانا،سنانا اور شہرت کا حصول ہوتو پھر فقیر کو چاہئے کہ اس کا مال قبو ل نہ کرے کیونکہ قبول کرنے کی صورت میں وہ اس کے فاسد  مقصد میں مددگار ثابت ہوگا۔
	حضرت سیِّدُنا سُفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکو کچھ دیا جاتا تو واپس کردیتے اور فرماتے :اگر مجھے پتا ہوتا کہ یہ لوگ میرے قُبول کرنے کوبطورِ فخردوسروں کے سامنے بیان نہیں کریں گے تو میں قبول کرلیتا۔
	ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس ان کے دوست کچھ بھیجتے تو وہ واپس کردیتے۔پوچھنے پرفرماتے: میں ان پر شفقت اور ان کی خیر خواہی کرتے ہوئےان کے تحفے واپس کرتا ہوں کیونکہ یہ اس بات کو لوگوں سے بیان کرتے اورپسند کرتے ہیں کہ دوسروں کو ان کے دینے کاعلم ہوجس کی وجہ سے ان کا مال بھی چلا جاتا ہے اور بُری نیت کی وجہ سے ثواب بھی ضائع ہوجاتا ہے۔
(3)…تحفہ قبول کرنے میں نیت کیا ہو؟قبول کرنے میں اپنی نیت پرغور کرے اور دیکھے کہ کیا بنیادی ضروریات کے لئے اسے قبول کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں،اگر ضرورت ہواوریہ مال شُبَہ اور ان آفات سے محفوظ ہو جن کا بیان دینے والے کے ذکر میں ہوا تو پھر فقیر کےلئے لینا افضل ہے۔
دینے والے کا ثواب لینے والے سےزیادہ نہیں:
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے محبوب،دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:مَا الْمُعْطِیْ مِنْ سَعَةٍ بِاَعْظَمَ اَجْرًا مِّنَ الْاٰخِذِ اِذَا كَانَ مُحْتَاجًایعنی وُسْعَت وکُشادگی کی حالت میں دینے والے کا ثواب لینے والے  محتاج سے زیادہ نہیں۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المجمعم الاوسط،۶/ ۱۲۷،حدیث : ۸۲۳۵،بتغیرقلیل