Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
615 - 882
 کرنے کی صورت میں خوشی حاصل ہو اوراپنے اوپر اس کا احسان سمجھے کہ اس نے میرا تحفہ قبول کیا۔
	تحفہ قبول کرنے والا اگر یہ سمجھے کہ قبول کرنے میں کچھ نہ کچھ احسان مند ہونا پڑے گا تو اگرچہ ایسا ہدیہ قبول کرنا شرعاً جائز ہے لیکن صادقین فُقرا ایسے تحفے کو ناپسند کرتے ہیں۔
	حضرت سیِّدُنابِشْربن حارِث حافیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِیفرماتے ہیں:میں نے حضرت سیِّدُناسَری سَقَطیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکے علاوہ کبھی کسی سے کوئی چیز نہیں مانگی کیونکہ میرے نزدیک وہ واقعی دنیا سے بے رغبت ہیں، دنیا کے چلے جانے سے خوش ہوتے اور باقی رہنے سے پریشان ہوتے ہیں، لہٰذا میں زُہْد کے معاملے میں ان کی مدد کرتے ہوئے ان سے مانگتا ہوں۔
حکایت:آپ نے مجھ پر احسان کیا
	ایک خُراسانی شخص سیِّدُالطائفہ حضرت سیِّدُناجُنَیْدبغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیکی خدمت میں کچھ مال لے کرحاضر ہوااور درخواست کی کہ آپ اس مال کو کھانے پینے کی چیزوں میں صرف کریں۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:کیا میں اسے فقرا میں تقسیم کردوں؟اس نے عرض کی:میرا مقصود یہ نہیں ہے۔ فرمایا: میں کتناعرصہ زندہ رہوں گا کہ اسے کھاتا رہوں؟اس نے عرض کی:حضور!آپ اسے سرکے اور سبزیوں میں نہیں بلکہ مٹھائی اور دیگر لذید کھانوں میں استعمال کریں(تو یہ جلد ختم ہوجائے گا)۔یہ سن کر آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے وہ مال قبول فرمالیا۔اس خُراسانی شخص نے کہا:بغداد میں آپ سے زیادہ کسی نے مجھ پراحسان نہیں کیا۔حضرت سیِّدُنا جُنَیْد بغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِینےفرمایا:تم جیسےشخص کےعلاوہ کسی اورسےتحفہ قبول نہیں کرناچاہئے۔
٭…دوسری صورت صدقہ یا زکوٰۃ ہے:اگر زکوٰۃ ہو تو پھر فقیر کو اپنے بارے میں غور کرنا چاہئے کہ میں زکوٰۃ کا مستحق ہوں یا نہیں۔اگر یہ بات اس پر مشتبہ ہوجائے کہ میں مستحق زکوٰ ۃ ہوں یا نہیں تو یہ شبہے کا مقام ہے جس کی تفصیل ہم ’’کتاب اسرارالزکوٰۃ‘‘میں بیان کرچکے ہیں۔
چھپ کر گناہ کرنے والے فقیر کے لئے تحفہ قبول کرناکیسا؟
	اگرپیش کیا گیا مال صدقہ ہو تو بھی فقیرغورکرے کہ دینے والا اسے اپنا صدقہ کیوں دے رہا ہے؟اگر