Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
614 - 882
 چنانچہ حضرت سیِّدُنا فتح مَوصِلِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکی خدمت میں ایک تھیلی میں50درہم بطورِہدیہ پیش کئے گئے۔ آپ نے فرمایا:حضرت سیِّدُناعطاءرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے ہمیں یہ روایت پہنچی ہے کہ مصطفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:مَنْ اَتَاهُ رِزْقٌ مِّنْ غَيْرِ مَسْئَلَةٍ فَرَدَّهٗ فَاِنَّمَا يَرُدُّهٗ عَلَى اللہیعنی جس کے پاس بغیر مانگے رزق آئے اور وہ اسے واپس کردے تو وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی عطاکو واپس کرتا ہے۔(1)پھرآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے تھیلی کھول کراس میں سےایک درہم لیااورباقی واپس لوٹادیئے۔
عالِم اور مبلغ کوتحفہ قبول کرنے میں زیادہ احتیاط کرنی چاہئے:
	حضرت سیِّدُناحسن بَصْریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبھی اس حدیثِ پاک کو روایت فرمایا کرتے تھے اس کے باوجود ایک شخص نے آپ کی خدمت میں دراہم سے بھری تھیلی اور خُراسان کے باریک کپڑوں کا تھان پیش کیا تو آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے قبول کرنے سے انکار کردیا اورفرمایا:جو شخص میری طرح لوگوں کووعظ ونصیحت کرنے اور علم سکھانے کے لئے بیٹھے اور پھر لوگوں سے اس طرح کے تحفے قبول کرے توبروزِ قیامت وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے لئے ثواب میں سے کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
	اس حکایت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تحفہ قبول کرنے کے معاملے میں عالِمِ دین اور مبلغ کو دیگر لوگوں کی بنسبت زیادہ احتیاط کرنی چاہئے۔حضرت سیِّدُنا حسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمذکورہ احتیاط کے باوجود اپنے دوستوں سے تحفہ قبول فرمایا کرتے تھے۔
	حضرت سیِّدُناابراہیم تَیْمِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیاپنے دوستوں سے ایک یا دو درہم مانگتے تھے جبکہ دیگر لوگ آپ کی خدمت میں سینکڑوں درہم بھی پیش کرتے تو آپ قبول نہ فرماتے تھے۔
	ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں منقول ہے کہ ان کا  دوست انہیں کچھ دیتا تو وہ فرماتے کہ اسے اپنے پاس رکھ کر غور کرو،اسے قبول کرنے سے پہلے تمہارے نزدیک میرا جو مرتبہ ہے اگر قبول کرنے کے بعد اس میں اضافہ ہو تو مجھے بتادینا میں قبول کرلوں گاورنہ نہیں۔
	اس بات کی علامت یہ ہے کہ اگر سامنے والا اس کا ہدیہ قبول نہ کرے تو اسے گراں گزرے جبکہ قبول
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند البصر یین، حدیث عائذ بن عمرو،۷/ ۳۶۲،حدیث :۲۰۶۷۵، بتغیر