(1)…ملنے والے مال کے بارے میں:اس کے حلال اور تمام شُبہات سے خالی ہونے پر غور کرے، اگر اس میں کسی قسم کا شبہ ہو تو لینے سے احتراز کرے۔’’کتابُ الْحَلَال وَالْحَرام‘‘میں ہم اس بات کا بیان کرچکے ہیں کہ شُبہے کےکون کون سےدرجےہیں نیزکس سےبچناواجب اورکس سے بچنامستحب ہے۔
(2)…دینے والے کی غَرَض میں غورکرے:اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں:(۱)… اگرغرض یہ ہو کہ جسے دے رہا ہے اس کا دل خوش کرے اور اس کی محبت حاصل کرے تو یہ ہدیہ ہے،(۲)…اگرحصولِ ثواب پیشِ نظر ہوتو یہ صدقہ یازکوٰ ۃ ہے،(۳)…یامقصودفقط اپنی واہ واہ کروانا،دکھانا اور سناناہوگااور اس کے ساتھ دیگر فاسد اغراض بھی پیشِ نظرہوں گی۔
تحفہ قبول کرنےکی مختلف صورتیں اور ان کے احکام:
٭…پہلی صورت ہدیہ(تحفہ) ہے:جس کے قبول کرنے میں کوئی حَرَج نہیں کیونکہ ہدیہ قبول کرنا مکی مدنی مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنَّت ہے لیکن ہدیہ ایسا ہونا چاہئے جسے قبول کرنے میں کسی کا احسان مند نہ ہونا پڑے ورنہ قبول نہ کرے۔اگر ہدیہ کا بعض حصہ ایسا ہو جسے قبول کرنے میں احسان مند ہونا پڑے گا تو اسے واپس کرکے باقی کوقبول کرلے۔
حضورنبیّ کریم،رَءُ وْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں گھی،پنیر اور مینڈھابطورِہدیہ پیش کیا گیاتو آپ نے گھی اورپنیر قبول فرمالیا جبکہ مینڈھاواپس فرمادیا۔(1)نیزآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبعض لوگوں کا ہدیہ قبول فرماتےاوربعض کا نہ فرماتے۔(2)
جیساکہ فرمانِ مصطفٰےہے:لَقَدْ هَمَمْتُ اَنْ لَّااَتَّھِبَ اِلَّا مِنْ قُرَشِىٍّ اَوْ ثَقَفِىٍّ اَوْ اَنْصَارِىٍّ اَوْ دَوْسِىٍّیعنی میں نے ارادہ کیا ہے کہ قریش،ثقیف ،انصار اور دوس سے تعلق رکھنےوالےافرادکےعلاوہ کسی کاہدیہ قبول نہیں کروں گا۔(3)
تابعین کے ایک گروہ کا عمل بھی یہی تھا کہ وہ بعض لوگوں کا ہدیہ قبول کرتے اوربعض کا نہ کرتے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند الشامیین ، حدیث یعلی بن مرة الثقفی،۶/ ۱۷۵،حدیث:۱۷۵۵۹، بتغیر قلیل
2… سنن ابی داود، کتاب الاجارة ، باب فی قبول الھدایا،۳/ ۴۰۵،حدیث :۳۵۳۷،مفھومًا
3…سنن الترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب فی ثقیف وبنی حنیفة،۵/ ۴۹۳، حدیث:۳۹۷۱، ’’اتھب‘‘بدلہ’’اقبل ھدیة ‘‘