Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
611 - 882
کرتے ہوئے خود کو مال دار سے بہتر سمجھے۔
	یہ ایک مرتبہ ہے جبکہ اس سے ادنیٰ دَرَجہ یہ ہے کہ مال داروں سے میل جول نہ رکھے اور نہ ہی ان کی ہم نشینی میں رغبت کرے کیونکہ ایسا کرنا لالچ کا نکتۂ آغازہے۔
ریاکار اور چورفقیر:
	حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:جب کوئی فقیر مال داروں سے میل جول رکھے تو جان لو کہ وہ ریا کار ہے اور اگر حکمرانوں سے رابطہ رکھے تو سمجھ لوکہ وہ چورہے۔
	ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:جب فقیر مال داروں کی طرف مائل ہو تو اس کے فقر کی رَونَق زائل ہوجاتی ہے،ان سے لالچ رکھے تو اس کی حفاظت منقطع ہوجاتی ہے اور جب اسے مال داروں کے قرب میں سکون حاصل ہونے لگے تو یہ(اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تک لے جانے والے)راستے سے گمراہ ہوجاتا ہے۔
 	فقیر پر لازم ہے کہ مال داروں کا لحاظ کرتے ہوئے اور ان سے مال ملنے کی لالچ میں حق بات کو بیان کرنے سےخاموش نہ رہے۔
افعال میں فقیرکے آداب:
	افعال میں فقیر کے آداب یہ ہیں کہ فقر کے سبَباللہ عَزَّ  وَجَلَّکی عبادت سے محروم نہ رہے،اگر ضروریات کی تکمیل کے بعد کچھ مال بچ جائے تو اسے صدقہ کرنے میں دریغ نہ کرے کیونکہ یہ ایک غریب کا صدقہ ہے اور اس کی فضیلت اس کثیر مال کے صدقے سے زیادہ ہے جو مال دار کی طرف سے کیا جائے۔
ایک درہم کا ثواب لاکھ درہم سے زیادہ:
	حضرت سیِّدُنا زید بن اسلمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمسے مروی ہے کہ رحمَتِ عالَم،نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:دِرْهَمٌ مِّنَ الصَّدَقَةِ اَفْضَلُ عِنْدَاللہ مِنْ مِّائَةِ اَلْفِ دِرْهَمٍیعنی صدقے کا ایک درہماللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نزدیک ایک لاکھ درہم سے افضل ہے۔عرض کی گئی:یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!وہ کیسے؟ارشاد فرمایا:ایک شخص اپنے مال میں سے ایک لاکھ درہم صدقہ کرتا ہے جبکہ دوسرے شخص کے پاس صرف دو