Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
610 - 882
ظاہری آداب:
	فقیرکےلئے ظاہری آداب یہ ہیں کہ مخلوق کے سامنے دسْتِ سُوال دراز نہ کرےاور لوگوں کے سامنے اپنی حالت کو اچھا کرکے پیش کرے،نہ تو شکوہ وشکایت کرے اور نہ ہی اپنے فقر کو ظاہر کرےبلکہ  اپنے فقر کو لوگوں سے چھپائے اور انہیں یہ تک پتا نہ چلنے دے کہ یہ اپنے فقرکو چھپاتا ہے۔یہی وہ فقیر ہے کہ جس سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّمحبت فرماتا ہے۔چنانچہ
اللہعَزَّ  وَجَلَّکا پسندیدہ فقر: 
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے محبوب،دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:اِنَّ اللہ یُحِبُّ الْـفَقِیْرَ الْمُتَعَفِّفَ اَبَاالْعِیَالِیعنیاللہ عَزَّ  وَجَلَّاس فقیر سے محبت فرماتا ہے جو بال بچوں والا ہونے کے باوجود سوال سے بچتا ہے۔(1) 
	ارشادِباری تعالیٰ: یَحْسَبُہُمُ الْجَاہِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِۚ (پ۳،البقرة:۲۷۳)
ترجمۂ کنز الایمان:نادان انہیں تونگر سمجھے بچنے کے سبب۔
حضرت سیِّدُنا سفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:تنگی کے وقت اپنی حالت کو اچھاظاہر کرنا افضل ترین عمل ہے۔
	ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:فقر کو چھپانا نیکی کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔
اعمال میں فقیر کا ادب:
	اعمال میں فقیر کاادب یہ ہے کہ مال کی وجہ سے کسی مال دار کےلئے تَواضُع نہ کرے بلکہ ان کی نظروں میں دنیاکوکمتر  دکھانے کے لئے ان سے اِعراض کرے۔
	امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں:حصولِ ثواب کی نیت سے مال دار کا فقیرکے لئے تواضع کرنا بہت اچھا ہےاور اس سے بھی اچھا یہ ہےکہ فقیراللہ عَزَّ  وَجَلَّ پربھروسا 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب  فضل الفقراء،۴/ ۴۳۲،حدیث :۴۱۲۱