Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
61 - 882
٭…تیسرا طریقہ: جھوٹی گواہی دے کر کسی کا مال ضائع کرنا۔
٭…چوتھا طریقہ: جھوٹی قسم کھا کر امانت یا کوئی اور مال لے لینا۔
	یہ وہ چار طریقے ہیں جن کا تدارُک نہیں ہوسکتا اور ایسا بھی نہیں کے ان کے حرام ہونے میں شریعتیں مختلف ہوں۔ ان میں سے بعض بعض سے  زیادہ سخت ہیں لیکن یہ تمام ماقبل مذکور جانوں سے متعلق دوسرے درجہ سے کم سخت ہیں۔
	یہ چار گناہ اسی بات کے لائق ہیں کہ انہیں کبیرہ شمار کیا جائے۔ اگرچہ شریعت نے ان کے ارتکاب پر حد مقرر نہیں کی مگر ان پر اکثر وعید سنائی ہے (یعنی سزا سے ڈرایا ہے) نیز معاملاتِ دنیا پر ان کے اثرات بھی زیادہ ہیں۔
سود اور غصب کا کبیرہ ہونا:
	سود میں دوسرے کی مرضی سے اس کا مال کھایا جاتا ہے جس میں شریعت کی مقررکردہ ایک شرط کے سبب خلل وکوتاہی واقع ہوتی ہے اور بعید نہیں کہ  اس جیسے معاملات میں شریعتوں کا اختلاف ہو۔ جہاں تک غصب کا تعلق ہے کہ جس میں دوسرے کا مال اس کی اور شریعت کی مرضی کے بغیر کھایا جاتا ہے(حضرت سیِّدُنا ابوطالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ  لِی نے)اسے کبیرہ گناہوں میں شمار نہیں کیا۔ سود کا کھانا مالک کی مرضی سے ہوتا ہے شریعت کی مرضی سے نہیں اس کے باوجود شریعت نے سود کھانے سے سختی کے ساتھ منع کیا اور اسے بڑا قراردیا تو غصب کے ذریعے ظلم کو بھی بڑا ہونا چاہئے اور خیانت کو بھی بڑا جرم قراردیا جانا چاہئے۔ البتہ! خیانت اور غصب کے ذریعے ایک دانق (درہم کا چھٹا حصہ) کھانے کو کبیرہ گناہ قرار دینا محل نظر ہے اور یہ مقام شک ہے۔ گمان زیادہ اسی جانب مائل ہے کہ یہ کبیرہ گناہوں کے تحت داخل نہیں بلکہ کبیرہ گناہ کو اس فعل کے ساتھ خاص کردینا چاہئے جس کے کبیرہ ہونے پرتمام شریعتوں کا اِتّفاق ہو تاکہ اس کا شمار ضروریاتِ دِین میں ہو۔
شراب کے کبیرہ ہونے کے متعلق بحث:
	حضرت سیِّدُنا ابوطالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے جو کبیرہ گناہ بیان فرمائے ہیں ان میں سے تہمت لگانا ( یعنی کسی پر زنا کا الزام لگانا)، جادو کرنا، شراب پینا، میدانِ جہاد سے بھاگنا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا باقی رہ گئے۔ شراب چونکہ عقل کو زائل کردیتی ہے ،،لہٰذا یہ اسی کے زیادہ لائق ہے کہ یہ کبیرہ