کو ناپسند نہیں کرتابلکہ اس کا شکر گزار ہوتا ہے۔
یہ ادب فقر کا سب سے ادنیٰ دَرَجہ ہے اوراس پر عمل کرنا واجب جبکہ اس کا اُلَٹ(یعنی فقر کواللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فعل ہونے کی حیثیت سے برا جاننا)حرام اور فقر کے ثواب کو ضائع کرنے کا باعث ہے۔
اس فرمانِ مصطفٰےکا یہی مفہوم ہے:يَامَعْشَرَالْـفُقَرَآءِاُعْطُوْااللہ الرِّضَا مِنْ قُلُوْبِكُمْ تَظْفَرُوْا بِثَوَابِ فَقْرِكُمْ وَاِلَّا فَلَایعنی اےفقرا کےگروہ!اللہ عَزَّ وَجَلَّکی تقسیم پر دل سےراضی رہوگے تو اپنے فقر کا ثواب پاؤ گے ورنہ نہیں۔(1)
اس سے اعلیٰ دَرَجہ یہ ہے کہ فقر کو ناپسند نہ کرے بلکہ اس پر راضی رہے۔اس سے بھی اعلیٰ دَرَجہ یہ ہے کہ مال داری کے نقصانات کا عِلْم ہونے کی وجہ سے فقر کا طالِب رہے اور اس سے فرحت محسوس کرے،اللہ عَزَّ وَجَلَّ پرکامل بھروسا رکھے کہ وہ اسے ضروریاتِ زندگی کا سامان عطا فرمائے گا اور ضرورت سے زائد مال واسباب کے حصول کو ناپسند کرے۔
فقرکے باعثِ ثواب یاسبَبِ عذاب ہونے کی نشانیاں:
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں:فقر کسی کے حق میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے باعِثِ ثواب ہوتاہے اور کسی کے لئے سبَبِ عذاب۔فقر اگر ثواب کا باعِث ہو تو اس کی علامت یہ ہے کہ بندے کے اَخلاق کو اچھا کردیتا ہے،وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت وفرمانبرداری میں لگ جاتا ہے اورشکوہ وشکایت نہیں کرتا بلکہ دولَتِ فقر کے حصول پراللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر بجا لاتا ہے۔ فقر کے عذاب کا سبب ہونے کی نشانی یہ ہے کہ بندے کو بداَخلاق بنادیتا ہے،وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی میں مشغول ہوجاتا ہے،شکوہ وشکایت کی کثرت کرتاہے اور تقدیر پر راضی نہیں ہوتا ۔
آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکایہ فرمان اس بات پر دلالت کرتا ہےکہ ہر فقیر قابلِ تعریف نہیں ہوتا بلکہ صرف وہ فقیر قابلِ تعریف ہے جو فقر پر ناراض نہ ہو بلکہ راضی رہے یا پھر فقر کے ثواب پر نظر رکھتے ہوئے اس پر خوش رہے۔
منقول ہے کہ جب بندے کو کوئی دُنیوی چیز دی جاتی ہے تو اس سے کہا جاتا ہے:اسے تین چیزوں مصروفیت،غم اور طویل حساب کے بدلے میں لو۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…فردوس الاخبار،۲/ ۴۷۵،حدیث:۸۲۴۲