Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
608 - 882
 اس کے دَرَجات میں مزید اضافے کا سبب بنتے ہیں کیونکہ وہ اپنے مال کو فقرا ومساکین پر خَرچ کرکے ان کی دعائیں حاصل کرتا ہے اور انہیں عبادت وریاضت کے لئے دنیا سے مستغنی(بے پروا)کرنے کا سبب بنتا ہے۔
	(2)…وہ فقیر جسے بنیادی ضروریاتِ زندگی بھی دستیاب نہ ہوں ۔ایسے فقر میں کوئی بھلائی نہیں بلکہ یہ انسان کو کفر میں مبتلا کرنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔   ایسافقرصرف ایک صورت میں اچھا ہوسکتا ہے ،وہ یہ کہ بنیادی ضروریاتِ زندگی کے حصول سے ایک شخص کی جان سلامت رہے،اس کے ساتھ وہ اپنی زندگی اور قُوت کو کفر وشرک اور گناہ کے کاموں میں خَرچ کرے تو ایسے شخص کے لئے مذکورہ فقر(یعنی بنیادی ضروریاتِ زندگی بھی دستیاب نہ ہوں) خیر کا باعث ہے کیونکہ اس کے لئے بھوک سے مرجانا ہی بہتر ہے کہ اس صورت میں اس کے گناہ کم ہوں گے۔                                                                                                                                                                                                                                                                            
	فقر وغَنا میں سے فضیلت کسے حاصل ہے؟یہاں اس کے بیان کا اختتام ہوا۔اب  صرف ایک صورت باقی ہے کہ ایسا فقیر جو مال کا حریص،ہمہ تن طلَبِ مال میں سرگرداں اورہر وقت اسی فکر میں مبتلا رہتا ہو اور ایسا مال دار جس میں حفاظَتِ مال کی حرص مذکورہ فقیر سے کم ہو اور مال کے گم ہوجانے پر وہ اتنا غمگین نہ ہوتا ہو جتنا کہ یہ فقیر مال نہ ہونے پر غمگین ہے توان دونوں میں سے کون افضل ہے؟یہ  معاملہ مَحلِّ نَظَر ہے اور زیادہ ظاہر یہ ہے کہ مال کے نہ ہونے اور گم ہوجانے پر ان میں سے جسے جتنا زیادہ غم ہو تا ہے اتنا ہی وہ بارگاہِ الٰہی  سے دور ہے اور جس کا یہ غم جتنا کم ہے اتنا ہی اسےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا قرب حاصل ہےاور حقیقتِ حال کا علم اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے پاس ہے۔
پانچویں فصل:			  فقیرکےآداب
	فقیرکے لئے کچھ باطنی اور کچھ ظاہری آداب ہیں نیز لوگوں سے میل جول اورافعال کے معاملے میں بھی فقیر کے لئے کئی آداب ہیں جن کی پاسدار ی کرنا فقیرپر لازم ہے۔
باطنی ادب:
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کےاسے فقر میں مبتلا کرنے کے فعل کو اپنے دل میں بھی برا نہ جانے۔مراد یہ ہے کہ اگر چہ طبعی طور پر فقر کو ناپسند کرتا ہو لیکناللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا فعل ہونے کی حیثیت سےاسے برا نہ جانے۔اس کی مثال یہ ہے کہ پچھنے لگوانے والا تکلیف کی وجہ سے اس عمل کو ناگوار جانتا ہے لیکن پچھنے لگانے والے کو اور اس کے کام