Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
607 - 882
ہے ، مال کی محبت اس کے دل میں گھر کرلیتی ہےاور وہ دنیا سے مطمئن ہوجاتا ہے جبکہ فقیراور لاچار شخص کا دل دنیا سے بیزار ہوجاتا ہے اور دنیا اس کے نزدیک ایک قید خانے کی طرح ہوتی ہے جس سے وہ چھٹکاراپانا چاہتا ہے۔دو افراد کا انتقال ہوجائے اوردونوں ہر معاملے میں برابر ہو ں لیکن ان میں سے ایک دوسرے سے زیادہ دنیا کی طرف مائل ہو تو لازمی طور پر اس کا اُخروی معاملہ مشکل ہوگا کیونکہ اسے دنیا سے جس قدر محبت ہے اسی قدرآخرت سے وحشت ہوگی اور اس کا دل دنیا میں اٹکا رہے گا۔
	حضورنبیّ رحمت،شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:اِنَّ رُوْحَ الْقُدُسِ نَفَثَ فِیْ رَوْعِیْ اَحْبِبْ مَنْ اَحْبَبْتَ  فَاِنَّكَ مُفَارِقُهٗیعنی رُوْحُ الْقُدُس(حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام)نے میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے کہ جس سے چاہیں محبت فرمائیں آخرکاراس سے جُدائی ہے۔(1)
	اس روایت میں اس بات پر تنبیہ کی گئی ہے کہ محبوب کی جدائی نہایت سخت ہوتی ہے،لہٰذاعَقْل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ ایسی ہستی سے محبت کی جائے جو ہم سے کبھی جدا نہ ہوگی یعنیاللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور جدا ہونے والی چیز یعنی دنیا سے محبت نہ کی جائے کیونکہ دنیا سے محبت کرنے والااللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ملاقات  کو ناپسند کرتا ہےلیکن موت کی آمدپر اسے اپنی محبوب دنیا سے جداہوکر سَفَرِ آخرت اختیار کرنا پڑتا ہے۔محبوب سے جدائی کی تکلیف ہر شخص کو اس کی محبت واُنسیت کی مقدار میں ہوتی ہے اور مال دارشخص جو دنیا پر قادر ہو اس کی دنیا سے محبت اس شخص سے زیادہ ہوتی ہے جس کے پاس دنیاوی مال موجودنہ ہو اگرچہ وہ حصولِ دنیا کا حریص بھی ہو۔
دو قسم کے افراد کے لئے مال داری افضل ہے:
	اس ساری گفتگو کا نتیجہ یہ نکلا کہ دو قسم کے افراد کے علاوہ دیگر تمام لوگوں کے حق میں فقر بہتر،افضل اور سلامتی کا راستہ ہے۔وہ دو قسم کے افرادیہ ہیں:
	(1)…وہ غنی جسے اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا جیسا غَنا حاصل ہو کہ اس کے نزدیک مال ودولت کا ہونا نہ ہونا دونوں برابر ہوں ۔ایسے شخص کےلئے مال ودولت نقصان کا باعث نہیں بلکہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المستدرک للحاکم،کتاب الرقاق،باب شرف المؤمن قیام اللیل،۵/ ۴۶۳،حدیث:۷۹۹۱،بتغیر
	شعب الایمان،باب فی الزھدوقصرالامل،۷/ ۳۴۸،حدیث:۱۰۵۴۰،بتغیرقلیل