Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
606 - 882
	یہ قناعت گزار فقیر کی شاکر غنی کے ساتھ نسبت کا بیان تھا۔
حریص  فقیر کی حریص غنی سے نسبت کا بیان:
٭…سُوال:ایک ایسا شخص جو مال سے محروم ہو ،وہ مال کا طالب اور اس کےلئے کوشش کرنے والا ہو پھر اسے مال حاصل ہوجائے ،یہ شخص پہلے حالَتِ فقر اور اب حالَتِ غَنا سے موصوف ہے،ان دونوں میں سے اس کی کون سی حالت افضل ہے؟
٭…جواب:افضل حالت کے تعیُّن کےلئے یہ دیکھا جائے گا کہ یہ شخص کس قدر مال کا طالب تھا؟اگر اس کا مطلوب بقدرِضرورت مال تھااور اس کی نیت یہ تھی کہ اس مال کے ذریعے دین کے راستے پر چلنے میں مدد حاصل کرے تو ایسے شخص کے لئے حصولِ مال کی حالت افضل ہے کیونکہ فقر بندے کو طلَبِ ما ل میں مصروف رکھتا ہے اور جو شخص روزی کی تلاش میں مصروف ہواسے فکرِآخرت اورذکرو اذکارکے لئے فرصت نہیں ملتی، اگر وہ ذِکْر وفِکْر میں مشغول بھی ہو تو اس کا دل فکرِمعاش میں مصروف رہتا ہے جبکہ بقدرِ کفایت مال رکھنے والا شخص اس آفت سے محفوظ ہوتا ہے۔اسی لئےمُعَلِّـمِ کائنات،شاہِ موجوداتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ دعا فرمایا کرتے تھے:اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ قُوْتَ اٰلِ مُحَمَّدٍكَفَافًایعنی اےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ!آلِ محمدکو بقدرکفایت رزق عطا فرما۔(1)
	ایک روایت میں ہے:کَادَ الْـفَقْرُاَنْ یَّکُوْنَ کُفْرًایعنی قریب ہے کہ فقرکفرتک پہنچادے۔(2)
	اس حدیثِ پاک میں وہ فقر مراد ہے جس میں انسان زندگی کی بنیادی ضروریا ت کے معاملے میں بھی محتاج ہو۔
	اگر بندے کا مطلوب حاجت سے زائد مال ہو یا پھربقدرِ حاجت مال ہی اس کا مطلوب ہو لیکن اس سے دین کے راستے پر چلنے کےلئے مدد حاصل کرنا مقصود نہ ہو تو ایسے شخص کے لئےحالَتِ فقر افضل ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ فقیر اور غنی دونوں مال کی لالچ اور محبت میں برابر ہیں اور اس بات میں بھی یکساں ہیں کہ مال سےان دونوں کا مقصود دین کے راستے پر چلنے کے معاملے میں مدد حاصل کرنا نہیں ہے نیز یہ دونوں اپنے فقر اور مال داری کے سبب مَعْصِیت(گناہ)میں مبتلا نہیں ہوتے،فرق اس میں یہ ہے کہ مال دار مال سے مانوس ہوجاتا 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسلم، کتاب الزھدو والرقائق، ص ۱۵۸۸،حدیث:۲۹۶۹ ،  بتغیر قلیل
2… شعب الایمان للبیھقی ، باب  فی الحث علی ترک الغل والحسد،۵/ ۲۶۷ ،حدیث:۶۶۱۲