Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
605 - 882
 تکبُّر کرنااللہ عَزَّ  وَجَلَّکی صِفَت نہیں البتہ جو تکبُّرحقیقت پر مشتمل ہوجیسے مسلمان کا کافرپر،عالم کاجاہل پراوراطاعت گزارکانافرمان پرتکبُّرکرنا،اس قسم کا تکبُّراللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے شایانِ شان ہے۔تکبُّر کے لفظ سےبعض اوقات فخر و غُرور،شیخی بگھارنے اور تکلیف دینے کا معنیٰ بھی مراد لیا جاتا ہے اور یہاللہ عَزَّ  وَجَلَّکی صِفَت نہیں بلکہ اس کا وصف تو یہ ہے کہ وہ سب سے بڑا ہے اور وہ اس بات کو قطعی طور پر جانتا ہے  جبکہ بندے کو اس بات کا حکم ہے کہ اگر اسے قدرت حاصل ہو تو وہ بلند مرتبے کو درست طریقے سے حاصل کرنے کی کوشش کرے نہ کہ ناجائز طریقے اور دھوکا دہی سے۔بندے پر یہ اعتقاد رکھنا لازم ہے کہ مومن کافر سے ،اطاعت گزار نافرمان سے،عالم جاہل سے، انسان حیوانات، جمادات،نباتات سے بہتر اور ان کی بَنِسْبَتاللہ عَزَّ  وَجَلَّسے قریب ہے۔اگر کوئی بلاشک وتردد اپنے بارےمیں ان باتوں کا یقین رکھے تو اسے جائز تکبُّر کی صفت حاصل ہے جو ایک بندۂ مومن کے لئے مناسب اور اس کے شایانِ شان ہے لیکن اس فضیلت کا حصول اچھے خاتِمے پر موقوف ہے  اور کوئی شخص بذاتِ خود اس بات کو نہیں جان سکتا کہ اس کا خاتِمہ کیسا ہوگا۔خاتِمے کی کیفیت سے ناواقف ہونے کے سبب مومن  کو چاہئے کہ اپنے مرتبے کو کافر کے مرتبے سے بڑا نہ سمجھے کہ کبھی کافر کا خاتِمہ  ایمان پرہوجاتا ہے اور اس کا کفرپر، لہٰذا اپنے انجام سے بے خبر ہونے کی وجہ سے بندے کے لئے تکبُّر مناسب نہیں ہے۔
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی صِفَتِ عِلْم سے مراد یہ ہے کہ وہ اشیاءکی حقیقت کو جانتا ہے اور ایسا ہی عِلْم بندے کے حق میں کمال ہے۔بعض چیزوں کی مَعْرِفَت بندے کو نقصان پہنچاتی ہے،لہٰذا ایسا عِلْم بندے کے حق میں مناسب نہیں کیونکہ صفاتِ باری تعالیٰ میں سے کوئی صِفَت ایسی نہیں جو اسے نقصان دے۔ایسی چیزیں جن میں نقصان نہ ہوان کی مَعْرِفَت بندے کے لئے مناسب ہے اور اسی پر فضیلت کادارومدار ہے ۔انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام،اولیآءُاللہ اور علمائےعِظام اسی عِلْم کے سبَب افضل ہیں۔ 
	بہرحال اگر بندے کے نزدیک مال کا ہونا نہ ہونا دونوں برابر ہوں تو یہ غَنا کی ایسی قسم ہے جو کسی نہ کسی طرح اس غَنا کےمشابہ ہے جوصِفَتِ باری تعالیٰ ہےاوریہ فضیلت کی بات ہے جبکہ مال ودولت کے ذریعے حاصل ہونے والی غَنا میں کوئی فضیلت نہیں ۔