Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
604 - 882
فقرا اور مال داروں کا اِنتخاب:
	حضرت سیِّدُنا سفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:تین چیزوں کو فقرا نے اختیار کیا جبکہ تین اشیاء کو مال داروں نے چنا۔فقرا نے نفس کی راحت،دل کی فراغت اور حساب کی آسانی کومُنْتَخَب کیاجبکہ مال داروں نے نفس کی تھکاوٹ ، دل کی مشغولیت اور حساب کی سختی کا انتخاب کیا۔
غنی فقیر سے کب افضل ہے؟
	حضرت سیِّدُناابن عطاءرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکایہ قول درست ہے کہ غَنااللہ عَزَّ  وَجَلَّکی صِفَت ہے اس لئے اس سے مُتَّصِف شخص یعنی غنی افضل ہے لیکن یہ اس وَقْت ہے کہ بندہ مال کے ہونے، نہ ہونےدونوں سے بے نیاز ہواوراس کے نزدیک دونوں حالتیں برابر ہوں اور مال اس کے نزدیک پانی کی طرح ہو۔اگر وہ مال کے وجود سے غنی ہولیکن اس کے باقی رہنے کا محتاج ہوتواس کا غَنااللہ عَزَّ  وَجَلَّکے غَنا کے مشابہ نہیں ہےکیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّذاتی طورپرغنی ہے،اس کاغَناقابلِ زوال چیز(یعنی مال)سے نہیں ہےجبکہ مال کازوال ممکن ہے اس طور پر کہ وہ چوری ہوسکتا ہے۔
	حضرت سیِّدُناابن عطاءرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے ردمیں ذکر کردہ یہ دلیل صحیح ہے کہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ مال واسباب کے ذریعے غنی نہیں ہےلیکن یہ دلیل ایسے غنی کی مذمَّت میں کارآمد ہے جو مال کی بقا چاہتا ہے۔
	یہ دلیل  کہاللہ عَزَّ  وَجَلَّکی صِفات بندوں کے لئے مناسب نہیں ہیں درست نہیں جیسے عِلْم جو کہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی صِفَت ہےلیکن بندے کےلئے افضل ترین چیز ہے بلکہ بندگی کا کمال یہ ہے کہ بندہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی صِفات سے مُتَّصِف ہوجائے۔
اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے متکبِّر ہونے کا معنٰی:
	(حضرتِ سیِّدُناامام محمدغزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیفرماتےہیں:)میں نے ایک بزرگ کو یہ فرماتے سناکہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی راہ کا مسافر اس راستے کی تکمیل سے پہلے ہی ننانوے صِفاتِ بار ی تعالیٰ سے مُتَّصِف ہوجاتا ہے  یعنی اسے ہر صِفَت کا فیض حاصل ہوتا ہےالبتہ بندے کے لئے تکبُّر مناسب نہیں  کیونکہ جس پر تکبُّر نہیں کرنا چاہئے اس پر