فرمایا:جب گھر والے تم سے کہیں کہ ہمارے پاس نہ تو آٹا ہے اور نہ ہی روٹی تواس وقت تم میرے لئے دعا کرنا کیونکہ اس وقت تمہاری دعا میری دعا سے افضل ہے۔
مال دار اور فقیر عابد کی مثال:
حضرت سیِّدُنابِشْر بن حارِث حافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی فرمایا کرتے تھے:مال دارعبادت گزار کی مثال ایسی ہے جیسے کچرے کے ڈھیر پرموجود سبزہ اورفقیر عبادت گزار کا معاملہ ایسا ہے جیسے خوبصورت عورت کے گلے میں موتیوں کا ہار۔
منقول ہے کہ بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین مال داروں سے عِلْمِ مَعْرِفَت کی باتیں سننے کو ناپسند کرتے تھے ۔
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!میں نفس کے غَلَبہ کے وقت تجھ سے بے سروسامانی کااورقدرِ کفایت سے زائد مال سے بے رغبتی کا سوال کرتا ہوں۔
جب آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجیسی کامل شخصیت بھی مال سے بچتی ہے تو پھر اس بات میں کیسے شک کیا جاسکتا ہے کہ مال کے ہونے سے نہ ہونا بہترہے۔
مذکورہ تمام گفتگو اس صورت میں ہے کہ مال دار نے جائز طریقے سے مال حاصل کرکے اسے درست مَقام پر خَرچ کیاہو،اس کے باوُجود بھی بروزِقیامت اس کا حساب طویل ہوگا اور اسے جنت میں داخلے کے لئے کافی انتظار کرنا پڑے گااورجس شخص سے حساب کتاب میں جرح کی گئی تووہ عذاب میں گِرِفتارہوگا۔اسی لئے قاسِمِ نعمت،مالِکِ کوثر وجنَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُناعبدالرحمٰن بن عوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کومُلاحَظہ فرمایا کہ حساب کتاب میں مشغول ہونے کے سبب انہیں دخولِ جنت میں تاخیر ہوئی۔
حساب کتاب کے خوف کے سبَب مال سے نفرت:
حضرت سیِّدُناابودرداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ مسجد کے دروازے پر میری دکان ہوجو مجھے نماز اورذِکرُاللہ سے غافل نہ کرےاور مجھے اس دکان سے روزانہ 50دینار کا نفع حاصل ہو جسے میں راہِ خدا میں صَدَقہ کردوں۔عرض کی گئی:آپ اس بات کو کیوں ناپسند فرماتے ہیں؟فرمایا: حساب کتاب کی سختی کی وجہ سے۔