انبیائے کِرامعَلَیْہِمُ السَّلَاماوراولیائے عِظامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے سوا دیگر تمام مال داروں کا یہی حال ہے کیونکہ فقرِ مطلق کا حصول یا تو ناممکن ہے یا پھر شدید مشکل اسی لئے ہم مطلقاً یہ بات کہتے ہیں کہ تمام مخلوق کے لئے فقر ہی افضل ہے کیونکہ فقیر کا دنیا سے تعلق اوراُنْس کمزور ہوتا ہے اور جس قدر یہ تعلق کمزور ہوتا ہے اسی قدر بندے کی تسبیحات اور عبادات کا ثواب زیادہ ہوجاتا ہے۔
فقیرکی عبادت کا ثواب زائد ہونے کی وجہ:
فقیر کی تسبیحات اور عبادات کا ثواب زائد ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اذکار وتسبیحات کا اصل مقصود زبان کو حَرَکت دینا نہیں بلکہ یہ ہے کہ انسان کے دل میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت گھر کر لےاور تسبیحات و عبادات جس طرح محبَّتِ دنیا سے خالی دل میں اثر کرتے ہیں دنیوی محبت میں مشغول دل میں اس طرح اثر نہیں کرسکتے ۔ اسی لئے ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:جو شخص عبادت وریاضت کرے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ طلبِ دنیا میں بھی مشغول ہوتو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص گھاس سے آگ بجھانے کی کوشش کرےیا اپنے ہاتھ سے گوشت کی چکنائی کو مچھلی سے صاف کرے۔
ہزار سال کی عبادت سے افضل عمل:
حضرت سیِّدُناابوسُلَیْمان دارانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:جس خواہش پر قدرت حاصل نہ ہو اس کے بغیرفقیر کا ایک سانس لینا مال دار کی ہزار سال کی عبادت سے افضل ہے۔
ایک ہزار دینارصَدَقہ کرنے سے افضل عمل:
حضرت سیِّدُنا ضحاکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:جو شخص بازار جائے اور کسی چیز کو دیکھ کراس کی خواہش پیدا ہولیکن وہ صَبْر کرے اور ثواب کی امید رکھے تو یہ عمل اس کےلئے راہِ خدا میں ایک ہزار دینا ر صَدَقہ کرنے سے افضل ہے۔
ایک شخص نے حضرت سیِّدُنابِشْربن حارِث حافیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِیکی خدمت میں عرض کی کہ میرے لئے دعا فرمائیےکیونکہ میں اَہْل وعِیال کے اخراجات کی وجہ سے پریشا ن ہوں۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے