Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
601 - 882
 ہوجائے تو وہ لامُحالہاللہ عَزَّ  وَجَلَّکی محبت سے آباد ہوجاتا ہے کیونکہ دل خالی نہیں رہ سکتا،اس میں یا تواللہ عَزَّ  وَجَلَّکی محبت ہوتی ہے یا اس کے غیر کی۔جوشخص جس قدر غیر کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہ اسی قدراللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دور ہوجاتا ہے اور جس قدراللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا قُرب پاتا ہے اسی قدر غیر سے دور ہوجاتا ہے۔ان دونوں کی مثال ایسی ہے جیسےمشرق ومغرب کی سمتیں،جو شخص  جس قدر ان میں سے ایک کے نزدیک ہوگا اسی قدر دوسری سمت سے دور ہوجائے گا بلکہ ان میں سے کسی ایک سمت سے نزدیکی ہی دوسری سےدوری ہے،اسی طرح دنیا کی حقیقی محبت ایک طرح سےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دشمنی ہے،لہٰذاعَقْل مندشخص کو اپنے دل پرنظر رکھنی چاہئے کہ یہ دنیا سے بے رغبت ہے یا اس سے مانوس ہے۔
خلاصَۂ کلام:
	اس گفتگو کا نتیجہ یہ نکلا کہ فقیر اور مال دار میں باہم فضیلت کا دارومدار صرف اس بات پر ہے کہ ان کے دل میں مال کی محبت کس قدر ہے ،اگر اس مُعامَلے میں دونوں برابر ہوں تو پھر دونوں کا دَرَجہ بھی برابر ہے لیکن یہ ایک ایسا مُعامَلہ ہے جس میں لَغْزِش اور دھوکے کا سخت اندیشہ ہے ۔بعض اوقات مال دار شخص یہ گمان کرتا ہے کہ اس کا دل مال کی محبت سے پاک ہے لیکن محبتِ مال اس کے دل میں پوشیدہ ہوتی ہے اور اسے اس بات کا پتا تک نہیں چلتا،اس بات کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب اس کے  پاس مال نہیں رہتا ۔
دل میں مال کی محبت کے امتحان کا طریقہ:
	اگر انسان اپنے دل کا امتحان کرنا چاہے کہ میرے دل میں مال کی کس قدر محبت ہے تو مال کو تقسیم کرتے وَقْت یا مال چوری ہوجانے پر اپنے دل کی کیفیت پر غور کرے،اگراپنے دل کو مال کی طرف متوجہ پائے تو جان لے کہ میں دھوکے کا شکا ر تھا۔اس معاملے کی مثال ایسی ہے  جیسے بعض لوگ یہ سمجھ کر اپنی باندی کو بیچ دیتے ہیں کہ مجھے اس سے لگاؤ نہیں لیکن خریدار کے حوالے کرنے کے بعددل میں پوشیدہ محبت کی آگ شعلہ زن ہوجاتی ہے اور یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وہ غَلَط فہمی میں مبتلا تھا ،باندی کی محبت اس کے دل میں اس طرح چھپی ہوئی تھی جیسےراکھ کے نیچے آگ۔