بھی سونے چاندی کے زیورات سے بنا ہوا تھا۔
مال اور پانی،سونے اور پتھر کا برابر ہونا صرف انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَاماور اولیائے عِظامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکے لئے ممکن ہے اور ان حضرات کوبھی یہ مرتبہ طویل مُجاہَدات کے بعداللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فَضْل وکَرَم سے حاصل ہوتا ہے،جیساکہ مروی ہے کہ جب دنیا بن سنورکر حضور نبیّ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے آتی توآپ اس سے فرماتے:اِلَيْكَ عَنِّىْ یعنی مجھ سے دور ہوجا۔(1)
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرمایاکرتے تھے:اے زردرنگ والے (یعنی سونا)! میرے سوا کسی اور کو فریب دے،اےسفید رنگ والی(یعنی چاندی)!میرے علاوہ کسی اور کو دھوکا دے۔یہ آپ اُس وقت ارشاد فرماتے جب اپنے نفس میں سونے چاندی کے دھوکے کے آثار مُلاحَظہ فرماتے اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتے۔حقیقی مال داری اسی چیز کا نام ہے(کہ دل میں مال کی محبت نہ ہو)کیونکہ حضورنبیّ کریم،رَءُ وْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:لَـیْسَ الْغِنٰی عَنْ کَثْرَةِ الْـعَرَضِ اِنَّمَا الْـغِنٰی غِنَی النَّفْس یعنی مال داری مال ودولت کی کثرت کا نام نہیں بلکہ اَصْل مال داری تودل کاغنی(بے نیاز)ہونا ہے۔(2)
چونکہ اس مَقام کا حاصل کرنا عام لوگوں کے لئے بہت مشکل ہے،لہٰذا ان کے لئے سلامتی کا راستہ یہی ہے کہ ان کے پاس ضرورت سے زیادہ مال ودولت جَمْع نہ ہو اگرچہ وہ اپنے مال کوصَدَقہ کرتے اور نیکی کے کاموں میں خَرچ کرتے ہوں کیونکہ مال پر قادر ہونے کی صورت میں وہ دنیا کی محبت،اس سے لُطف اندوز ہونےاور اسے خرچ کرنے میں حاصل ہونے والی فرحت سے نہیں بچ سکتے اور یہ سب باتیں دنیا سے محبت کا باعث بنتی ہیں اور جس قدر انسان کے دل میں محبتِ دنیا گھر کرلے اسی قدر اس کی آخرت سے محبت میں کمی آجاتی ہے،نیز مَعْرِفَتِ باری تعالیٰ کی صِفَت کے علاوہ انسان جس قدر اپنی کسی صِفَت سے مانوس ہوتا ہے اسی قدروہاللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کی محبت سے دورہوجاتاہے۔نیز جب دنیا سے محبت کے اسباب منقطع ہوجائیں تو دل دنیا اور اس کی رنگینیوں سے کنارہ کش ہوجاتا ہے اور جب کسی مومن کا دلاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا ہر چیز سے خالی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المستدرک للحاکم،کتاب الرقاق،باب اذامرض المؤمن یکتب عملہ…الخ،۵/ ۴۴۰ ،حدیث:۷۹۲۶
2…بخاری، کتاب الرقاق، باب الغنی غنی النفس ،۴/ ۲۳۳،حدیث :۶۴۴۶