Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
60 - 882
 تو پھر  زنا کے جواز کے ساتھ یہ نظام کیسے تکمیل کو پہنچے گا حتّٰی کہ جانوروں تک کے مُعامَلات اس وقت تک درست نہیں چل سکتے جب تک ان میں سے خاص مادہ کے لئے خاص نر نہ ہو۔ اسی لئے شریعت کہ جس کا مقصد اصلاح ہے اس میں زنا کی اجازت کا تصو ر بھی نہیں کیا جاسکتا۔
	زنا کا درجہ قتل کے بعد ہی ہونا چاہئے کیونکہ یہ وجودِ انسانی کا دَوام ختم نہیں کرتا اور نہ ہی اس کی اصل میں رکاوٹ بنتا ہے۔ البتہ! یہ نسبوں کا باہمی امتیاز ختم کرتا اور ایسے اسباب کو ہوا دیتا ہے جو باہمی لڑائی تک پہنچاتے ہیں۔ لواطت کے گناہ سے زنا کا گناہ زیادہ سخت ہے کیونکہ زنا میں مرد وعورت دونوں کی طرف شہوت داعی وسبب ہوتی ہے۔ پس اس کا وقوع کثرت سے ہوتا ہے اور اسی کثرت کے سبب اس کے نقصان کا اثر بھی بڑا ہوتا ہے۔
تیسرا درجہ:
	تیسرے درجے کا تعلق اموال سے ہے۔ یہ انسانوں کے لئے اسبابِ زندگی ہیں لیکن ان کے حصول کی خاطر لوگوں کو کھلی چھٹی نہیں دی جاسکتی کہ جیسے چاہیں حاصل کریں مثلاً زبردستی یا چوری یا کسی اور ناجائز طریقہ سے۔ بلکہ اموال کو باقی رکھنا انسانی جانوں کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کیونکہ مال اگر چھن جائے تو اس کی واپسی ممکن ہے، اگر کھالیا جائے تو اس کا تاوان دیا جاسکتا ہے تو ان صورتوں میں اس کا معاملہ بڑا نہیں۔ ہاں! اگر مال اس طرح لیا گیا کہ اس کا تدارُک دشوار ہو تو اب یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہونا چاہئے۔
مال کا حُصُول اور گناہِ کبیرہ:
	اس کے یہ چار طریقے ہوسکتے ہیں۔
٭…پہلا طریقہ: خفیہ وپوشیدہ طور پر مال لینا مثلاً چوری کہ اکثر مالک کو اس کی اطلاع نہیں ہوتی تو تدارک کیونکر ہوسکے گا!
٭…دوسرا طریقہ: یتیم کا مال کھانا کہ یہ بھی پوشیدہ طور پر ہوتا ہے۔ یہ یتیم کے ولی اور سرپرست کے متعلق ہے  کیونکہ وہ مالِ یتیم پر امین ہوتا ہے اور یہاں مدعی صرف یتیم ہے جو معاملے سے انجان ایک ناسمجھ چھوٹا بچہ ہے۔ پس اس مُعامَلے کا بڑا ہونا لازمی بات ہے بخلاف کسی کا مال غصب کرنے کے کیونکہ یہ کُھلے عام ہوتا ہے اور بخلاف امانت میں خیانت کے کیونکہ اس صورت میں امانت رکھنے والا مُدَّعی اپنے لئے انصاف کامُطالَبہ کرتا ہے۔